اسلام کا تصورِ مغفر ت انتہا پسندی کی مکمل نفی کرتا ہے

Islamic

اسلام کا تصورِ مغفر ت انتہا پسندی کی مکمل نفی کرتا ہے

 افتخار حسین جاذب

“آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندوں جو اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے ہو،اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس مت ہواللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔بیشک وہ بہت بخشنے والا ،بہت مہربان ہے۔” (القرآن سورۃ الزمر آیت نمبر 53)

        اسلام میں مغفرت کا تصور اللہ کا خود پر رحمت کا واجب کرلینا اور نبی کریم ﷺ کا رحمت اللعالمین ہونا ہر مسلمان کے لیے مذہب اور عقیدے کے نام میں انتہا پسندی کے سبھی امکانات کو مستوط کر دیتے ہیں۔ اسلام کے ہر فرقے کے سبھی ایماء کرام میں      اتفا قِ رائے ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے کسی بھی فرد پر سقراطِ موت طاری ہونے سےقبل اس کے گناہ معاف کر سکتے ہیں اور اس کے      مشرف با اسلام ہونے کو بھی قبول کرلیتے ہیں ۔قرآن و سنت کے یہ سنہری اصول صحابہ کرام اور تابعین عزام کے دلوں میں اس قدر راسق تھے کہ اگر کوئی شخص جنگ کے دوران ان کی تلواروں کی زد میں آکر بھی کلمہ طیبہ پڑھ لیتا تو وہ اسے ہرگز قتل نہ کرتے ۔بدقسمتی سے آج القاعدہ ، داعش اور ان سے منسلک گروہ اسلام، قرآن وسنت سے اپنی جہالت کے سبب سے اللہ اور اس کے رسول کے تصورِمغفرت اور نظریہِ رحمت کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ انتہاپسندی کے جنون میں مبتلا یہ گروہ انسانوں کی ان کے عقیدے،       مذہب ،ثقافت ،تہذیب ،سیاسی سوچ اور ان کے روز مرہ معاملات کے سبب سے ناحق خون ریزی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ان گروہوں کے رہنماؤں کو اس بات کا ذرا بھی ادراک نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ حجۃالوداع میں ایک انسانی جان کی حرمت کو کعبہ کی حرمت سے افضل قرار دیا ہے اور قرآن مجید نے ایک ناحق قتل کو ساری انسانیت کے قتل کے برابر ٹھہرایا ہے۔یہاں ہم قرآن و سنت کے تصورِ مغفرت کی مزید وضاحت اور تشریح پیش کرتے ہیں تا کہ انتہا پسندی کی جڑ کٹ جائے۔

           سورۃ البقرہ کی آیت نمبر284 میں اللہ کا ارشاد ہے کہ “جِسے چاہوں گا اسے عذاب دونگا اور جِسے چاہوں گا اسے معاف کردوں گا “اور یہ موضوع قرآن مجید کی متعدد آیات میں دہرایا گیا ہے۔لہذا حتمی انصاف جزا اور سزا کا تعین خالصتاً رب العالمین کا استحاق ہے۔صرف اللہ ہی کی ذات ہرانسان کے سینے میں پوشیدہ رازوں ، نیتوں کی صداقت ، اس کے مرنے کے وقت ،جگہ اور اس کی زبان سے ادا ہونے والے آخری کلمات سے مکمل آگاہی رکھتی ہے ۔ اس لیے انتہا پسندی کی بنیاد پر کسی کی جا ن لینا درحقیقت کارِ قدرت اور مشیت ِالہی میں مداخلت کرنے کے مترادف ہےاور ایسے گناہ کے مرتکب ہونے والے افراد یقینی طور پر جہنم میں ہی جگہ پائیں گے۔ ایک طرف اللہ کریم کی اپنی مخلو قات کی عبادات اور اعمال سے بے نیازی مطلق ہے تو دوسری طرف اللہ اپنے بندوں سے بے انتہا محبت بھی کرتا ہے ۔سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 17 میں اللہ اپنے جلال کا یوں اظہار کرتا ہے کہ “اگر اللہ حضرت عیسیٰ ؑ، ان کی والدہ اور جتنی مخلوق زمین پر موجود ہیں انھیں ہلاک کر دینا چاہے تو اس کے سامنے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ لیکن یہ کائنات اللہ کی رحمت سے قائم ہے اور اللہ رب العزت اپنی رحمت اور محبت کے سبب ہر کسی کو توبہ کی توفیق اور مہلت عطا کرتا ہے ۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب احیائے علوم میں لکھتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کے دروازے اس قدر وسیع ہے کہ جب شیطانِ لعین ابلیس نے خدا سے مہلت چاہیے تو اللہ نے فوراً کی التجا قبول کر لی ۔ذرا سو چیے کہ اس قدر غفورو رحیم پروردگار کیونکر انتہا پسندانہ رویوں کی ترویج کو پسند کرے گا؟ بھلا مالکِ یوم الدین پر ایمان رکھنے والا مسلمان کیوں کر انتہا پسند بننا چاہے گا؟

           اسلام کا تصور مغفرت اور نظریہ رحمت صحابہ کرام کے دلوں میں جا گزین تھا اور ان کے اعمال اور سوچ میں انتہا پسندی کا شبہ تک بھی نہ موجود تھا ۔ خود نبی کریم ﷺ نے اپنے بد ترین دشمنوں پرغلبہ پا کر بھی انھیں مکمل طور پر معاف کر دیا تھا۔نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان لوگوں کے قبول اسلام پر بھی کوئی انگلی نہ اٹھائی جن لوگوں نے مسلمانوں کو غزوات میں شدید نقصان پہنچایا تھا ۔ اس امر کی صداقت پر سیرت اور حدیث کی کتابیں ناطق ہیں۔یہاں ہم چندمثالیں تحریر کردیتے ہیں تا کہ یہ اچھی طرح سے واضح ہوجائے کہ اسلام انتہاپسندی نہیں بلکہ مغفرت کا دین ہے۔

           اسلام کے تصورِ مغفرت کی سب سے بلند مثال حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قبول اسلام ہے جنھیں مسلمان ‘سیف اللہ’ کے لقب سے یا د کر تے ہیں۔حضرت خالد شروع میں اسلام کے سخت مخالف تھے۔ غزوہ احد میں انھوں نے کفار کے سواروں کے ایک دستے کی قیادت کرتے ہوئے احد پہاڑی کی ایک درے سے پلٹ کر حملہ کیا اور مسلمان جیتی ہوئی جنگ ہار گئے۔ اس حملے کے سبب 70 صحابہ شہید ہوگئے اور مدینے کا ہر گھرغم میں مبتلا ہوگیا۔ مگر جب یہی خالد 6 ہجری میں قبول اسلام کے لیے مدینے میں تشریف لائے تو نبی کریم ﷺ او ر سب صحابہ نے خوشی سے انھیں قبول کیا ذرا غور کیجیے کہ اگر اس موقعہ پر مغفرت کی بجائے انتہاپسندی سے کام لیتے تو جو روشن باب خالد نے اسلام کی جہاد کی تاریخ میں لکھے وہ کس طرح ممکن ہوتے؟

           انتہا پسندی کے رد میں اور اسلام کے مغفرت کے تصور کی بالا دستی کی ایک اور بڑی مثال ابو سفیان کا قبول اسلام ہے۔بلا شبہ    نبی کریم ﷺ اسلام اور صحابہ کرام کے سب سے بڑے دشمن ابو جاہل اور ابو لہب تھے مگر ابو سفیان نے ان دونوں کے مرجانے کے بعد بھی اسلام کو شدید نقصان پہنچایا۔ غزوہ بد ر میں کفار کا لشکر ابو سفیان کی شہ پر اس کی مدد کے لیے آیا ہوا تھا ۔ابو سفیان غزوہ احد اور غزوہ خندق میں کفار کے لشکر کا سربراہ تھا اور اسی نے مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا اور صلح ہدیبیہ طے پائی۔مگر جب اسلامی لشکر فتح مکہ کے لیے نکلا اور جیت یقینی ہوگئی تو ابو سفیان قبول اسلام کی خاطر نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔رحمتِ عالم نے نہ صرف اس کے قبول اسلام کو تسلیم کیا بلکہ اس کے گھر کو ہر کسی کے لیے دارالامان قرار دے دیا۔ان حقائق کو جا ن لینے کے بعد بھی اگر کوئی  انتہا پسندی پر اصرار کرے تو ہم اس نادان کے لیے اللہ سےہدایت کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

           اسلام کے مغفرت کے تصور کو فروغ دینے کے لیے خود نبی کریم ﷺ نے ہندا اور اس کے غلام کو معاف کیا جنھوں نے آپ کےعزیز چچا حضرت حمزہ کو شہید کر کے ان کا کلیجا چبایا تھا ۔صحابہ کرام کے ہر عمل سے انتہا پسندی کا رد ثابت ہے تاہم اس مختصر مضمون میں ہر واقعے کا بیان ممکن نہیں ۔ ہم یہاں نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے قرآن میں مذکور حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ایک واقعہ بیان کردیتے ہیں جو یقینی طور پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اس دور میں ہر مسلمان کے لیے مشعل ِ راہ ہے۔                سورۃ المائدہ کی آیت 27 سے 30 تک ارشاد باری تعالیٰ ہے”اور ان سے آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کا واقعہ سچائی سے بیان کردو جب انھوں نے اللہ کے حضور قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول کرلی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی وہ کہنے لگا کہ میں تمہیں قتل کردوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ اللہ صرف تقویٰ والوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔میں چاہوں گا کہ تو میرے بھی اور اپنے بھی گناہوں کا بوجھ اٹھائے اور جہنم میں داخل ہوجائے۔گناہ گاروں کا یہی انجام ہے۔پھر (قابیل) کے نفس نے اسے اپنے بھائی (ہابیل) کو قتل پر آمادہ کردیا اور وہ ظالموں میں سے ہوگیا۔

           دہشت گردی او رانتہا پسندی کے اس دور میں ہماری نوجوان نسل کو ہابیل کے کردار کو سامنے رکھنا ہوگا اور انھیں قابیل کے طرزِ عمل کو ہر ممکن طور پر مسترد کرنا ہوگا۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوان انتہا پسندی کو ترک کر کے اسلام کے تصورِ مغفرت اور نظریہ رحمت کو اپنائے گی۔ ہماری آخرت میں نجات کے لیے ضروری ہے کہ ہم القاعدہ، داعش اور ان سے منسلک گروہوں کے گمراہ کن انتہا پسندانہ نظریات سے اپنے سوچ و عمل کو محفوظ رکھیں۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top