دہشت گردوں کی گمراہی اور رمضان المبارک میں مسجدوں پر خود کش حملے

untitled

دہشت گردوں کی گمراہی اور رمضان المبارک میں مسجدوں پر خود کش حملے

(افتخار حسین)

رمضان المبارک رحمت اور توبہ کی قبولیت کا مہینہ ہے اور اس ماہِ مقدس میں اللہ کریم لوگوں کو جہنم کے عذاب سے نجات بخشتے ہیں۔دوسروں کی خطاؤں کو معاف کردینا اور رحم دلی اسلام کی سنہری اقدار میں سب سے نمایاں ہے اورروزے کی حالت میں ہر مسلمان ان کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے ۔ یہی سبب ہےکہ ہر سال کی طرح اس بار بھی حکومتِ پاکستان نے قرآن و سنت کی پاسداری کرتے ہوئے سزا یافتہ مجرموں کی رمضان کے دوران پھانسی پر عمل درآمد پر پابندی لگا دی          ہے ۔اسلام کی انہی اقدار کی پیروی کرتے ہوئے ہر سال رمضان کے اختتام پر صدرِمملکت قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی طور پر تخفیف کرتے ہیں ۔مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ رمضان میں بھی دہشت گردگروہوں کی وہشت اور قتل و غارت گری کے جنون میں کوئی کمی نہیں آتی۔ القاعدہ اورتحریک طالبان اس ماہِ مقدس میں بھی دہشت گرد ی اورخود کش حملے جاری رکھتے ہیں جن میں بے گناہ روزے دار مسلمان مرد ، عورتیں اور بچے شہید ہو جاتے ہیں۔تخریب کاری کی یہ روش اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان گروہوں کو نہ تو جہاد کی حقیقت کا کچھ ادراک ہے اور نہ ہی وہ قرآن و سنت کے مطابق حرمت والی چیزوں سے آگاہی رکھتے ہیں۔

قرآن اور حدیث کی روح سے محرم، رجب، ذوالقعدہ اور ذی الحج مقدس مہینے ہیں۔ جن میں جنگ کرنا حرام ہے۔   سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 217 میں صاف صاف فرما دیاگیا ہے کہ ان مہینوں کی حرمت کو پامال کرنا گناہ ہے۔ دہشت گردوں نے کبھی بھی اس بات کا لحاظ نہیں رکھا ۔ وہ بلا اشتعال بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کے لیے ان مقدس مہینوں میں بھی خودکش حملوں کو جاری رکھتے ہیں ۔ ان کا یہ عمل ان کی گمراہی اور غیر اسلامی روش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قتل و غارت گری کے جنون نے انہیں قرآن و حدیث کی تعلیمات سے بھی بےبہراکردیا ہے ۔ مسجدیں، نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کی محفلوں سے دہشت گردوں کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ وہ رمضان کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تو درکنارالقاعدہ، تحریک طالبان اور لشکرِ جھنگوی کے اہلکار رمضان کے تقدس کا لحاظ کر تے ہوئے مسجدوں،           امام بارگاہوں اور مذہبی اجتماعوں کو بھی نہیں بخشتے اور خود کش حملوں جیسے حرام اور مکروہ ہتھکنڈوں سے انھیں ضرر پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علماء اور مذہبی رہنماؤں کو بھی یہ گروہ رمضان کے دوران شہید کرتے رہتے ہیں۔سب سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ مسجدوں اور امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں میں قرآن المجید کے بہت سے نسخے بھی شہید ہو جاتے ہیں اور ان حملوں میں قرآن کے حافظ بھی خود کش حملہ آوروں کے نشانہ پر ہوتے ہیں۔

2014 میں رمضان کی آمد سے کچھ قبل آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تھا۔ جس کے سبب سے دہشت گردوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور گزشتہ سال سے ماہِ مقدس میں و ہ کوئی بڑا حملہ نہ کرپائے۔میڈیا رپورٹوں کے    اعداد و شمار کیمطابق گزشتہ10سالوں کے دوران اسلام کے نام نہاد علمبردار دہشتگردوں نے مساجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے نماز کے اوقات میں مساجد کے اندر 65سے زائد خود کش حملے کیے جن میں ہزاروں نمازی شہید اورہزاروں زخمی ہوئے۔اسلامی نکتہ نظر سے مساجد معاشرے میں امن و سلامتی کا مرکز ہوتی ہیں مگر ان درندہ صفت “خوارج” نے گزشتہ سالوں کے دوران ماہ رمضان المبارک کے دوران نمازجمعہ کے اوقات میں بھی مساجد میں خود کش حملے کر کے روزے دارمسلمانوں کو شہید اور زخمی کیا۔ ماہ رمضان میں نمازجمعہ کے اوقات میں مساجد میں خود کش حملوں کے سلسلے کا ایک خوفناک حملہ اگست2011ءمیں جمرود کی جامع مسجد میں کیا گیااس خود کش حملے میں 53روزہ دار مسلمان شہید اور120سے زائد روزہ دار زخمی ہو گئے۔ جولائی2013ءمیں بھی طالبان دہشتگردوں نے پاراچنار کی جامع مسجد کے سامنے اس وقت خود کش حملہ کیا جب روزہ دار افطاری کے لیے مسجد میں جمع ہو رہے تھے ۔اس خود کش حملہ کے نتیجے میں 40روزہ دار نمازی شہید اور140سے زائد روزہ دار زخمی ہو گئے ۔

آپریشن ضرب ِعضب کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور اس کی کامیابی کی وجہ سے تحریک طالبان کے دہشت گرد حواس باختہ ہیں۔چنانچہ اب وہ اپنی موجودگی اور قوت کا ثبوت دینے کے لیے آسان ہدف کا انتخاب کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ 2014 میں مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملے میں کچھ اضافہ نظر آتا ہے لہذا اس بات کا امکان ہے کہ یہ گروہ اس مرتبہ بھی رمضان میں مسجدوں کو نشانہ بنائیں۔۔ لہذا عوام اس رمضان مبارک میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے میں تعاون کریں۔ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے قائدین اور علماءکی بھی یہ       ذمہ داری ہے کہ وہ ماہ رمضان کے بابرکت مہینہ میں ملک دشمن قوتوں کی تخریبی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قوم کو بیدار ،خبردار اور تیار کریں تاکہ داخلی امن و استحکام کو لاحق ہمہ قسمی خطرات کا موثر سدباب اور بروقت تدارک ہو سکے ۔ملک کے تمام محب وطن دانشوروں اور کالم نگاروں پر بھی لازم ہے کہ وُہ دہشتگردوں کی شیطانی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے رائے عامہ کی رہنمائی کریں تاکہ تمام شہری ملک میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا اپنا ملی اور مذہبی فریضہ پورے جوش وجذبہ سے کماحقہ اداکریں تاکہ ماہ صیام میں تمام مساجد تخریبی کاروائیوں سے محفوظ رہ سکیں اور ہمارا پاک وطن امن وسلامتی کا مثالی گہوارہ بن سکے ۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top