‘را’ کی پاکستان مخالف سرگرمیاں ۔۔ایک لمحہ فکریہ

raw1

‘را’ کی پاکستان مخالف سرگرمیاں ۔۔ایک لمحہ فکریہ

(ایس اکبر)

حال ہی میں پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را” کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ‘را’ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔اس سے قبل بھی پاکستان کے اعلیٰ حکام کئی بار بھارت کی پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کی نشاندہی کر چکےہیں اور اس مسئلے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کروا چکے ہیں کہ انڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں ۔بھارت ہمیشہ یہ واویلا کرتا نظر آتا ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے فروغ کے لیے دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہا ہےحالانکہ در حقیقت پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں بےگناہ افراد اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں ۔اپنے گھر میں لگی ہوئی آگ بجھانے کی بجائے پاکستان کس طرح ہمسائے ممالک میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔ اس لیے بھارت کا یہ پروپیگنڈا سراسر غلط ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔اس کے برعکس اگر بدنامِ زمانہ ‘را’ کی سر گرمیوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بھارت کی یہ خفیہ ایجنسی نہ صرف خود پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں لگی ہوئی ہے بلکہ اس ضمن میں ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی اپنے نا پاک عزائم میں شامل کر رہی ہے۔

بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پاکستان کے وجودمیں آنے کے بعد مشرقی پاکستان کا وجود بھارت کی ہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔اس کے علاوہ پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے 1965 اور 1971 میں ہونے والی جنگیں بھی بھارت کی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی مہم بھی اب سب کے سامنے ہے۔قومیت پسند تنظیمیں اور علیحدگی کے لیے سرگرم تنظیموں کو ‘را’ کی جانب سے جو معاونت حاصل ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ہے۔بظاہر بلوچیوں کے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والے یہ نام نہاد رہنما دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے نہ صرف ان قومیت پرستی کا نعرہ لگانے والے افراد کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کو افغانستان میں پناہ بھی دی جاتی ہے۔ ان پاکستان دشمن عناصر کو خاص طور اس بات کا معاوضہ دیا جاتا ہے کہ وہ بلوچ قوم کو پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف اُکسا کر رنگ و نسل کے تضادات کی یہ جنگ جاری رکھیں۔ ان بلوچ رہنماؤں کے غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کی نشاندہی نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی کر چکا ہے۔اب تو کراچی ،پنجاب اور صوبہ خیبرپختون خواہ میں ‘را’ کی سرگرمیاں منظرِ عام پر آرہی ہیں ۔ان صوبوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ‘را’ مختلف قسم کے گھناؤنے کھیل کھیل رہی ہے۔حال ہی میں “را” نےاپنی معاندانہ کاروائیوں پہ عمل کرتے ہوئے ایک منظم سازش کے تحت بھارتی پروپیگنڈہ ویب سائٹ   “ون انڈیا ” پر بلوچ باغیوں کے سرغنہ اللہ نذر کا ایک من گھڑت اور انتہائی زہریلا انٹرویوجاری کیا جسکامقصد مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں،مسلح افواج،انٹیلی جنس اداروں اور پاک ۔چین روائتی تعلقات کے خلاف غیر مصدقہ الزامات کو ہوا دینا ہے۔پاکستان کے خلاف بھارت کی خفیہ کاروائیوں کا اعتراف تو خودبھارتی حکومت اور عسکری قیادت کئی بار کر چکی ہے۔جیسا کہ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں بلوچستان میں دہشت گردی سپانسر کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اِس بیان میں اس نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستان میں ہونے والے بم دھماکے بھارتی سرپرستی میں ہو رہے ہیں اور وہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی مدد بھی کر رہا ہے جس کے تحت اِنھیں ہتھیار فراہم کیے جاتے ہیں۔اس کے علاہ حال ہی میں بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائیزر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں کی معاونت کر رہا ہے۔ اِس سے قبل بھی یہ بات منظرِ عام پر آچکی ہے کہ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاںمل کر بلوچستان میں بد امنی پھیلا رہی ہیں۔ بلوچستان میں متحرک قومیت پرست تنظیموں کو بھارت اور افغانستان کی سرپرستی حاصل ہے ۔ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں قومیت پرست رہنما ذمہ دار ہیں جو دراصل غیر ملکی ایجنسیوں ‘را’ اور ‘موساد’ کے ہاتھوں بِک چکے ہیں۔

پاکستان کی عسکری قیادت،حکومت اور اعلیٰ حکام ‘را’ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں سے با خوبی آگاہ ہیں۔اسی ضمن میں بین الاقوانی سطح پر کئی بار یہ مسئلہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہاہےاور اس کی خفیہ ایجنسی پاکستان کے ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان دشمن تنظیموں کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کررہی ہے۔لیکن یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکےگا۔ان سب اسباب کے پیش ِنظرضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار       بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھائیں تا کہ امن کے سفیر پاکستان میں بھارت کی دخل اندازی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے اپنی پاکستان مخالف سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے مجبور کریں۔من حیث القوم ہمیں دہشت گردوں کی تنظیموں کی حقیقت سے مکمل آگاہ ہونا چاہیے تا کہ ملک دشمن عناصر کے مذموم مقاصد کو ملیامیٹ کیا جا سکے اور ملک امن و ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔اب وہ وقت دور نہیں کہ جب پاکستان کی عسکری قیادت اور اعلیٰ حکام اپنی مؤثر حکمت عملی اور مِلی یک جہتی کےذریعے پاکستان مخالف عناصر کے اس ملک میں بدامنی پھیلانے کے خواب کو چکنا چور کردیں گے۔انشااللہ

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top