فرقہ واریت اور اسکا تدارک

Rohingya men are seen among houses set on fire during fighting between Buddhist Rakhine and Muslim Rohingya communities in Sittwe

فرقہ واریت اور اسکا تدارک

 ایس اکبر

وطن عزیز کو فرقہ وارانہ انتہاپسندی اور جنونی دہشتگردی کے خونچکاں سلسلے سے مستقل طور پر نجات دلانے کے لیے قومی اتفاق رائے سے مرتب ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہونے کے حکومتی اعلانات اور اقدامات کے باوجوددہشتگردی نیٹ ورک کی بھیانک وارداتوں کا تکلیف دہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ پر پوری قوم نے شدید ردعمل ظاہر کرکے حکومت کو فیصلہ کن اقدامات کرنے پر مجبور کیا تو عرصہ دراز سے زیر التوا ءپھانسی کی سزاوں پر بھی عملدرآمد شروع ہو گیا اور عدالتوں سے موت کی سزائیں پانےوالے درجنوں دہشتگردوں کو پھانسیاں دی گئیں جبکہ ملک گیر سطح پر سیکورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ عوام الناس نے بھی محسوس کیا کہ اب ہمارے حکمرانوں کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے اس لیے اب وُہ تمام تر سیاسی و حکومتی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر پوری یکسوئی کیساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے وطن عزیز سے دہشتگردی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ اور صفایا کریں گے مگر شکار پور کی مسجد کربلا معلی میں نماز کے وقت ہونے والی دہشتگردی کی واردات میں63نمازیوں کی المناک شہادت کے سانحہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام تر دعووں کو غلط ثابت کردیا ۔آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کرنے والے درندہ صفت دہشتگردوں کے پورے نیٹ ورک کو پکڑ لیا ۔پاک جس میں27دہشتگرد شریک تھے جن میں سے9مارے گئے ہیں اور12دہشتگردگرفتار کر لیے گئے ہیں ۔ تفتیش میں اعتراف جرم کرتے ہوئےان دہشت گردوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس شیطانی کاروائی کا حکم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماءملا فضل اللہ نے دیا تھا ۔ پاک فوج کے ترجمان نے پہلی بار باضابطہ طور پر قوم کوآگاہ کیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کا ہاتھ کارفرما ہے اور بھارت دہشتگردوں کے صفایا کے لیے پاکستان میں جاری عسکری کاروائیوں کو ناکام کرنے کے لیے خطرناک گیم کھیل رہاہے ۔تحریک طالبان پاکستان کی دہشتگردانہ کاروائیوں اور فاٹا سمیت بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جس کا مقصد دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی جنگ کو کمزور کرنا ہے ۔

13فروری کے روز پشاور کی امامیہ مسجد میں نماز جمعہ پڑھتے ہوئے نمازیوں پر اسی طرز کے خود کش حملے میں22نمازیوں کی المناک شہادت اور68نمازیوں کے زخمی ہو نے کے سانحہ میں بھی وہی بھارت نواز دہشتگرد گروہ ملوث ہے جو آرمی پبلک سکول پشاور حملہ میں ملوث ہے ،اس لیے اس سانحہ کو فرقہ وارانہ تعصبات کا شاخسانہ قرار دینا اصل حقائق کو مسخ کرنے اور قوم کو گمراہ کرنے کی سازش ہو گی اس لیے ضروری ہے کہ تمام مسالک کے مذہبی اکابرین خصوصاً مذہبی جماعتوں کے قائدین اٹیمی قوت رکھنے والی واحد اسلامی ریاست کیخلاف عالمی یہود وہنود کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو کچلنے کے لیے میدان عمل میں آکر قرآنی احکامات کے عین مطابق امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا الہی فریضہ سرانجام دیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے فوٹو سیشن سیمینار منعقد کرنے تک محدود رہنے کی بجائے تمام مسالک کے نمائندگان اور علمائے کرام اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اسلام کے عادلانہ معاشرتی نظام کی تعلیم وترویج کے لیے ملک کے کونے کونے میں عوامی اجتماعات منعقد کریں اور ملت واحدہ کے اسلامی تصور اور اخوت اسلامی کا پرچار کرتے ہوئے اسلام اور جہاد کی خود ساختہ تشریحات اور توضیعات پیش کرنے والے خارجی ٹولے کے بارے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو باور کرائیں کہ ہمارا مقدس دین اسلام امن وسلامتی کا پیامبر دین حق ہے جو کہ عظمت انسان اور تکریم انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ہمارے ملک کے مذہبی پیشوا اور علمائے کرام آنحضور ﷺ کے مکی اور مدنی دور سے فیض حاصل کرتے ہوئے صحیح اسلامی طرزمعاشرت کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کو اتباع رسول ﷺکی تلقین کریں تو ہمارا معاشرہ انتہاپسندی اور دہشتگردی سمیت ہر قسم کی سماجی برائیوں اور لعنتوں سے پاک ہو سکتا ہے اور بھول پن میں بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کرکے انھیں قرآن مجید کی بتلائی ہوئے صراط مستقیم پرلایا جا سکتا ہے ۔وطن عزیز میں فرقہ وارانہ تعصبات کے ناسورکی جڑیں کاٹنے کے لیے ہمہ جہت عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔وطن عزیز کو فرقہ وارانہ جنون اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لیے پوری قوم کے سنجیدہ اور ذی ہوش افراد کو تمام تر مذہبی اور لسانی منافرتوں کیخلاف فکری جہاد کرنا ہو گا ۔تعلیمی اداروں کی چار دیواریاں اونچی کرنے اور مساجد وامام بارگاہوں کی سیکورٹی کے لیے پولیس کھڑی کرنے سے جنونی دہشتگردی کا سدباب اور خاتمہ ہو جانے کی خوش فہمی در حقیقت ہماری کج فہمی ہے ۔

بلا شبہ ہمارے ملک میں موجودجنونی انتہا پسندوں کے نیٹ ورک کو بیرونی قوتوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کو سر پرستی اور مالی اعانت حاصل ہے ۔ را ،موساد اور سی آئی اے نے پاکستان کے جنونی دہشت گردوں کو عسکری اور گوریلہ ٹریننگ دے کر ہمہ قسمی خطر ناک ہتھیاروں سے لیس کیا اور اور پھر ان تربیت یافتہ جنونی انتہا پسندوں کو جی ایچ کیو ،مہران نیول بیس ، کا مرہ ایئر بیس اور ملک بھر کے کئی مقامات پر آئی ایس آئی کے دفاتر اور سیکورٹی اداروں کے اہم مراکز پر حملوں کے لئے استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی سازش کی کہ دہشت گرد پاکستان کی مسلح افواج اور دوسرے سیکورٹی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز پر سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے باوجود بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں ۔بھارت اور اسرائیل پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے خوف زدہ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے ممالک کے دفاعی بجٹ کا خطیر حصہ پاکستان میں اپنے تیار کردہ دہشت گردی نیٹ ورک پر خرچ کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ملک کے سادہ لوح عوام کو اپنے ملک پر مسلط کردہ اس غیر اعلانیہ جنگ کے اسباب و عوامل اور دشمن کے آلہ کار بننے والے جنونی انتہا پسندوں کے ناپاک عزائم سے خبر دار کرنے کے لئے حکومتی اور عوامی سطح پر کسی قسم کی آگاہی مہم شروع نہیں کی گئی اور پاکستان میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کیلئے مسلح افواج اور آئی ایس آئی سمیت دوسرے حساس دفاعی اداروں کے خلاف میڈیا وار اور مخصوص ذہنیت کے حامل سیاستدانوں اور مولویوں کے پراپیگنڈہ کا بھی موئثر انداز میں جواب دینے سے گریز کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ذہنی خلفشار فکری انتشار کا باعث بنا جس سے انتہا پسند جنونی دہشت گردوں کو پورے ملک میں اپنا مضبوط نیٹ ورک منظم کرنے کا موقع     ملا۔جبکہ ملاوں کے ایک مخصوص گروہ نے اسلامی تعلیمات اور جہاد کی من مانی غلط تعبیر وتشریح کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا اس لئے گمراہ اور بھٹکے ہوئے ان لوگوں کو راہ راست پر لانے اور ان کے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کے لئے بڑی محنت کی ضرورت ہے جس کے لئے تمام مکاتب فکر کے قائدین اور علماءکو خود ساختہ باطل نظریات کی اصلاح کے لئے اپنا اسلامی فریضہ ادا کرنا چاہیے۔

جنونی دہشت گرد پاک فوج کے صرف اس لئے دشمن بن گئے ہیں کہ افواج پاکستان ان کے آقاوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کے راستہ میں فولادی دیوار کی طرح نا قابل تسخیر روکاوٹ ہیں اور اپنے ملک کے دشمنوں کے ان آلہ کار دہشت گردوں کے صفایا کیلئے پوری مستعدی سے آپریشن کر رہی ہیں ۔

وطن عزیز کیخلاف یہود وہنود کی بڑھتی ہوئی سازشوں کو کچلنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل پر عمل پیرا ہو کر درپیش گھمبیر خطرات کا مداوا کرنا چاہیے تاکہ قومی اتفاق رائے سے مرتب ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی بخوبی تکمیل ہو سکے اور وطن عزیز کو بیرونی آقاوں کے اشاروں پر قتل وغارت گری کرنے والے خارجی ٹولے اور تکفیری گروہوں سے مکمل طور پر پاک وصاف کیا جاسکے ۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top