جیمز بانڈ کی توبہ







علی سخن ور
جیمز بانڈ کی فلمیں ہر دور کے نوجوانوں میں جاسوسی کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب کا باعث بنتی ہیں، چمکتی دمکتی لمبی لمبی گاڑیوں کو کالی سیاہ سڑکوں پر بلا کسی روک ٹوک دوڑاتے ہوئے اچانک سے سامنے گہرے سمندر کا آجانا، اور پھر سمندر کے عین وسط میں کھڑی کسی پر تعیش سی موٹر بوٹ پر انتظار کرتی ہوئی نیم برہنہ حسینہ کی بے تابانہ مسکراہٹ اور پھر ایک دم سے آسمان پر کسی ہیلی کاپٹر کی گھڑگھڑاہٹ اور اس ہیلی کاپٹر سے لٹکتے رسے کی مدد سے کسی کمانڈو کے روپ میں جاسوس کا موٹر بوٹ پر جمپ کرنا، یقیناًیہ سب کچھ نوجوانوں کو ایڈونچر کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے ان فلموں کو دیکھ دیکھ کر نوجوان جاسوس بن سکیں یا نہ بن سکیں، ڈکیت ضرور بن جاتے ہیں۔جاسوس کی زندگی فلموں اور ڈراموں کی حد تک واقعی بے حد متاثر کن ہوتی ہے لیکن حقیقت میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ہر لمحے موت کا پھندا، قدم قدم پر دوست کے روپ میں دشمن، پل پل بے اعتباری اور ہر لحظہ بے یقینی۔جاسوس کی کبھی کوئی باقائدہ گھریلو یا پھر سماجی زندگی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی زندگی میں رومانس نام کے پھول کی کبھی جگہ بن پاتی ہے کیونکہ دوران تربیت اسے اس بات کا بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ کسی بھی خوبصورت عورت پرکبھی اعتبار نہیں کرنا ۔جاسوس پکڑا جائے تو اس کی سزا صرف اور صرف موت ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ جاسوس جب تک پردے میں ہے، محفوظ ہے، ذرا سا بھی منظر پر آیا مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر جاسوس پکڑا جائے تو اس کی صرف دو وجوہات ہو سکتی ہیں،جاسوس کی اپنی بے وقوفی یا پھر متحارب انٹیلی جنس ایجنسی کی غیر معمولی صلاحیت۔پاکستان میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل جاسوس کلبھوشن یادیو کو ہی دیکھ لیں۔آ جکل پاکستان کی کسی جیل میں اپنی سزائے موت پر عملدرآمد کے انتظار میں ہر گھڑی جینے اور ہر گھڑی مرنے والا یہ جاسوس ایک عرصے تک افغانستان اور ایران کے پاکستان سے ملنے والے سرحدی علاقوں میں بیٹھ کر آگ اور خون کا کھیل کھیلتا رہا۔کراچی سے لے کر کوئٹہ تک نہ جانے کتنے معصوم بے گناہ اس سفاک درندے کی خباثت کی بھینٹ چڑھ گئے، کتنے بھرے پرے گھر ویران ہوگئے اور کتنے گھرانوں کے لیے زندگی ایک عذاب بن گئی۔لیکن وہی مقولہ سچ ثابت ہوا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے بالآخر اس درندے کو اپنے جال میں جکڑ لیا۔ دلچسپ بات یہ کہ پکڑے جانے کے بعد اس شخص نے سرے سے اس بات کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ اس کا بھارت سے کوئی تعلق ہے،اس نے راء میں اپنی ملازمت کا بھی اقرار نہیں کیا بلکہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ وہ مسلمان ہے اور اسے کاروباری معاملات دیکھنے کے لیے ایران، افغانستان اور پاکستان آمدو رفت رکھنا پڑتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ پہلو یہ کہ بھارت کے ذمے دار حلقے بھی کلبھوشن سے اپنے کسی بھی تعلق کی تردید کرتے رہے۔لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ جب سے پاکستانی فوجی عدالت نے باقائدہ تحقیقات کے بعد کلبھوشن کو سزائے موت سنائی ہے،بھارتی میڈیا اس کی سزائے موت کو ظلم اور زیادتی ثابت کرنے کے لیے ہر ممکن جدو جہد میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں جلسوں اور جلوسوں کی مدد سے احتجاج کی ایک مصنوعی فضا قائم کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن بھارت ہی میں ایسے معتدل مزاج اور امن پسند شہریوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے لیے اس بھارتی ایجنٹ کا پکڑا جانا ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔

پاکستان میں بھارتی ایجنٹوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں۔گذشتہ بیس برس میں ہونے والے بم دھماکوں، خودکش حملوں اور اسی نوعیت کی دیگر وارداتوں کی فائلیں کھول کر دیکھیں، آپ کو ہر کاروائی کے پس منظر میں بھارتی ایجنٹوں کی موجودگی دکھائی دے گی لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ یہ ایجنٹ ہمیشہ پکڑے بھی جاتے ہیں۔اور یہ بات بھی نہایت دلچسپ ہے کہ پکڑے جانے کے بعد بھارت میں ان ایجنٹوں کا کوئی بھی والی وارث بننے کو تیار نہیں ہوتا۔ دلی میں جنتر منتر نام کی ایک یادگار ہے، اس یادگار پر اکثر لوگ احتجاج کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ 2013 کی ایک صبح اس یادگار پر ایسے بہت سے لوگ احتجاج کے لیے جمع ہوئے جن کا دعوی تھا کہ وہ تمام کے تمام راء کے ایجنٹ بن کر پاکستان گئے، پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے انہیں گرفتار کر لیا اور پھر باقاعدہ عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد انہیں برسوں کے لیے جیلوں کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ سزا بھگتنے کے بعد جب یہ ایجنٹ بھارت واپس پہنچے تو انہیں بھرتی کرنے والوں نے سرے سے پہچاننے ہی سے انکار کر دیا۔ ان بے چاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ہم پاکستان کی جیلوں میں سڑ رہے تھے تو ہمارا خیال تھا واپسی پر ہمیں قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے گا لیکن یہاں تو ہمیں کوئی پہچاننے کو ہی تیار نہیں۔ہم جائیں تو کہاں جائیں۔ستمبر 2013میں ایک بھارتی میگزین نے پاکستان میں پکڑے جانے والے راء کے ایجنٹوں کے بارے میں ایک نہایت تفصیلی فیچر شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ راء کے لیے کام کرنے والے ایجنٹوں میں ایک بڑی تعداد ایسے بدنصیبوں کی ہے جنہیں پکڑے جانے کے بعد پہچاننے ہی سے انکار کردیا جاتا ہے۔انکت تتیجا نام کے ایک بھارتی صحافی نے یہ فیچر رپورٹ مرتب کی تھی۔ اس رپورٹ میں بارہ ایسے ایجنٹوں کی تفصیلات بیان کی گئیں جو برسوں راء کے ساتھ کام کرتے رہے لیکن برا وقت آتے ہی راء نے ’آپ کون‘ کہہ کر جھنڈی کرا دی۔رام راج بھی راء کے ایسے ہی ایجنٹوں میں سے ایک ہے۔ وہ اٹھارہ سال تک ایک سفری گائیڈ کے روپ میں راء کے لیے ایجنٹی کرتا رہا۔سنہ 2004 میں وہ پہلی بار بذات خود ایجنٹ کے طور پر پہلی بار پاکستان گیا۔ اس کی قسمت خراب کہ اگلے ہی روز پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اسے دھر لیا۔ آٹھ سال جیل کی ہوا کھائی، ذلیل ہوا۔ تکلیفیں اٹھائیں مگر خیال تھا کہ رہائی کے بعد جب وہ واپس بھارت پہنچے گا تو واہگہ بارڈر پر اسے اکیس توپوں کی سلامی دی جائے گی مگر بتانے والوں کا کہنا ہے کہ بارڈر کے اس پار امیگریشن والوں نے اسے گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رکھا اور اس کی چھان پھٹک کی جاتی رہی۔بھارتی امیگریشن والوں کو اندیشہ تھا کہ کہیں پاکستانیوں نے رام راج کو اپنانہ بنالیا ہو۔ پاکستان نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہمیشہ امن کی خواہش کے ماتحت رکھا ہے، بالخصوص بھارت کے حوالے سے پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ معاملات کو سلجھاؤ کی طرف لے جایا جائے لیکن بھارت نے اس کوشش کو ہمیشہ ہی پاکستان کی کمزوری جانا ہے۔اب کی بار کلبھوشن کے معاملے میں پاکستان پہلے سے ایک مختلف رد عمل کا اظہار کر رہا ہے۔ کلبھوشن کے تختہ دار پر لٹکنے کے بعد ممکن ہے راء اپنے ایجنٹوں کو آئندہ پاکستان بھیجنے سے گریز کرے اور اپنی خفیہ سرگرمیوں کا دائرہ کار سری لنکا اور نیپال تک ہی محدود رکھے۔ اگرچہ راء کے پاس ماضی میں بنگلہ دیش میں کرنے کو بھی بہت سے کام ہوتے تھے لیکن شیخ حسینہ واجد کی موجودگی میں راء کو وہاں اپنے کوئی مزید ایجنٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی۔اگر کلبھوشن کو صحیح وقت پر پھانسی ہو گئی تو اس بات کا بھی وسیع امکان ہے کہ سری لنکا، بھوٹان،بنگلہ دیش اور پاکستان کی طرف عازم سفر بہت سے جیمز بانڈ توبہ تائب ہوجائیں اور اگر ایک آدھ بھارتی جاسوس افغانستان کے اصل وارثوں کے ہاتھ لگ گیا تو اس کا بھیانک انجام دیکھ کر راء کو اپنے بھرتی مراکز ہی بند کرنا پڑ جائیں گے۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top