جنونی دہشت گردی کے سدباب کیلئے بیداری مہم چلانے کی ضرورت

جنونی دہشت گردی کے سدباب کیلئے بیداری مہم چلانے کی ضرورت

اسلام ااور پاکستان کی دشمن قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے نسلی ، لسانی اور فرقہ ورانہ تعصبات کے شعلے بھڑکانے کا مکروہ کھیل شروع کرتے ہوئے عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور عظیم اسلامی مملکت پاکستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعصبات کو فروغ دیا گیا ۔ملت پاکستان کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کیلئے دشمنان اسلام نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اور ہمارے دشمن ممالک کے خفیہ اداروں نے اسلامی مسالک کے پیروکاروں کو آپس میں لڑانے کیلئے جنونی عناصر کو اس قدر مالی امداد مہیا کی کہ جس سے نہ صرف مسلمانوں میں نفاق و انتشار کا سبب بننے والا لٹر یچر شائع کر کے تقسیم کر ایا گیا بلکہ سادہ لوح مسلمانوں میں ان کے عقائد کے حوالے سے اشتعال کا ماحول بنایا گیا ۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کیلئے کئی جنونی مذہبی تنظیموں کو بے پناہ سر مایہ فراہم کیا گیا اور اسلام کے اہم ترین رکن جہاد کے اصل مفہوم اور سچے مقصد کو بھی مسنح کر کے جہاد فی سبیل اللہ کے نام پر فساد فی الارض پھیلایا جاتا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے ۔القاعدہ ،داعش ، طالبان اور لشکر جھنگوی نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے دینی مراکز اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر حملے کر کے فساد برپا کر رکھا ہے ۔ تخریب کاری اور بے گناہ انسانوں کا و حشیانہ قتل عام قرآن کی تعلیمات اور احکام الہی سے متصادم ہے ۔قرآن مجید میں مسلمانوں کو بار بار باور کرایا گیا ہے کہ وہ ایک امت ہیں اور انہیں فروعی مسائل میں الجھ کر فرقہ واریت اور تعصبات کی بنا پر گروہ بندیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیئے ۔ قرآن مجید کی سورة انعام کی آیت نمبر 16میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا اور فرقہ فرقہ ہو گئے آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انہیں جتاد ے گا جو وہ کرتے رہتے ہیں ۔ قرآن مجید کی آیات میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا اور فرقہ واریت کو مسلمانو ں کی کمزوری کا باعث قرار دیا گیا ہے سورة العمران کی آیت نمبر 103میں فرمان الہی ہے کہ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور فرقہ فرقہ مت ہونا ۔سورة العمران کی آیت نمبر 200میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو ثابت قدم اور مضبوط رہو اور ایک جماعت کی صورت اکھٹے رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جا ﺅ ۔ سورة الکافرون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ آپ فرماد دیجئے کہ اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا تم جس کی عبادت کرتے ہو ۔ میں جس کی عبادت کرتا ہوں تم اس کی عبادت نہیں کرے ۔ تمہارے لیئے تمہارا دین اور میرے لیئے میرا دین ۔۔ اس سورة مبارکہ میں واضح طور پر فرما دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو دیگر فرقوں یا مذاہب کی عبادت اور ان کی عبادت گاہوں میں مداخلت ہر گز نہیں کرنی چاہیئے یہی ہمارے دین کا درس اور انسانیت کی معراج ہے ۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو امربالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین فرمائی گئی ہے اس لیئے تمام       اہل دانش مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف شعوری بیداری کی خصوصی مہم چلاتے ہوئے اہل اسلام کی فکری و عملی راہنمائی کریں اور ہر خاص و عام کو تلقین کریں کہ وہ جنونی انتہا پسندوں کے جھوٹے د عو ؤں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے آئینے میں دیکھتے ہوئے باہمی اتحاد و یگا نگت کو فروغ دینے کیلئے تبلیغ و تلقین کا فریضہ سر انجام دیں اور اسلامی تعلیمات کی گمراہ کن تشریح و توضیع کر کے فتنہ فساد بر پا کرنے والے افراد اور گروپوں کے باطل نظریات کے خلاف عوام الناس میں آگاہی مہم چلائیں اور نو جوان نسل کو سمجھائیں کہ ہمارا مقد س دین اسلام امن و سلامتی کا پیا مبر دین حق ہے جو کہ فتنہ فساد بر پا کرنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے علماءاسلام پر بھی لازم ہے کہ وہ اسلام کے فلسفہ معاشرت کا پر چار کریں جس میں معاشرتی ہم آہنگی اور احترام آدمیت کا درس دیا گیا ہے ۔ موجودہ دور میں اخبارات اور ٹی وی چینلز بھی اصلاح معاشرہ کے لئے اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں اس لیئے ہمارے ملک کے میڈیا کو بھی نو جوان نسل کو گمراہی سے بچانے کیلئے حقیقی اسلامی تعلیمات کا پر چار کرتے ہوئے جنونی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف رائے عامہ کو بیدار اور منظم کر کے استحکام پاکستان کے لئے حکومت اور حکومتی اداروں کی راہنمائی کرنی چاہیے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی اصلاح معاشرہ کے لیے خصوصی مہم چلانی چاہیئے اور تعلیمی اداروں میں طلباءکی ذہنی و فکری نشوو نما کیلئے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کرنا چاہیئے ۔ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلباءو طالبات بھی شعوری و بیداری مہم کا اہم ترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ حکومت کے پالیسی ساز اداروں کو اس بارے میں قومی مفادات اور عصر حاضر کے تقاضوں کے اہم مطابق پالیسی وضع کرنی چاہیے ۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top