فضل اللہ دھوکہ دہی سے تحریک طالبا ن کا سربراہ بنا

fazluulah

فضل اللہ دھوکہ دہی سے تحریک طالبا ن کا سربراہ بنا

 افتخارحسین

یو ں تو فضل اللہ اپنی بد کرداری ،دھوکہ دہی، سازشی ذہن،جہالت اور ظلم وبربریت کی وجہ سے اپنوں اور غیروںمیں مشہور بھی ہے اور بدنام بھی۔خود اس کا اپنا سسرمُلا صوفی محمد اس کے کردار اور عمل سے بیزاری کا اعلان کر چکا ہے ۔تاہم مُلا عمر کی وفات کی خبر کے عام ہونے سے فضل اللہ کی دھوکہ دہی کے بارے میں ایسے انکشافات ہوئے ہیں کہ تحریک طالبان کے بہت سے رہنما اور کارندے چونک پڑے ہیں ۔

بعض صحافی جو تحریک طالبان کے مختلف رہنماؤں سے رابطے میں رہتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ فضل اللہ نے تحریک طالبان کے سبھی رہنماؤں کو مُلا عمر کے نام میں دھوکہ دے کر خود کو امیرمقرر کرایا۔اس بات کاانکشاف      مُلا عمر کی جنوری یا اپریل 2013 میں وفات ہوجانے کی خبرمنظرِعام پہ آنے کے بعد ہوا ہے۔نومبر2013 میں   حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان کا نیا امیر چننے کے لیے فضل اللہ ،خان سید سجنا اور عصمت اللہ شاہین بٹانی میں ٹھن گئی تھی۔ فضل اللہ نے اس بات کا پر چار کیا کہ مُلا عمر جوکہ اس وقت دنیا میں بھی موجود نہ تھااُسے امیر مقرر کرنا چاہتا ہے۔مبینہ طور پر فضل اللہ نے اپنے دعوٰے کے ثبوت کے طور پر مُلا عمر کا خط بھی پیش کیا اوردھوکہ دہی کی انہی تدبیروں سے بالآخر وہ تحریک طالبان کا امیر بن بیٹھا۔

فضل اللہ نے جس طرح سے تحریک طالبان کو یرغمال بنا کر اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا وہ اس گروہ کےبہت سے سارے رہنماؤں کےلیے نا قابلِ قبول رہے۔فضل اللہ نے پہلے تو شہریار محسود اور خان سید سجنا کو آپس میں لڑا دیا جس کے سبب سے سینکڑوں طالبان ہلاک ہوگئے ۔ اس کشمکش کے دوران فروری 2014 کو         عصمت اللہ شاہین بٹانی کی ٹارگٹ کلنگ ہوگئی جس کا الزام پاکستان اور افغانستان کے خفیہ اداروں پر لگایا گیا لیکن اب جبکہ فضل اللہ بری طرح سے بے نقاب ہو چکا ہے تو بہت سے رہنما یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ غالباًفضل اللہ ہی نے بٹانی کو اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ دیکھ کر اسے ہلاک کرادیا۔ اس کی جوڑ توڑ کی روش کی بنا پر آج تک     تحریک طالبان متعدد گروہوں میں بٹ چکی ہے ۔سب سے پہلے سجنا نے تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کی اور پھر جماعت الاحرار کی صورت میں بہت سے چھوٹے بڑے رہنما فضل اللہ سے بغاوت کر بیٹھے ۔ اس کی ایک کڑی کے طور پر پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نےفضل اللہ اور تحریک طالبان کو گمراہ کن قرار دے کر اس کا ساتھ ترک کردیا۔جب داعش نے قبائلی علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بنانے کی کوشش کی تو فضل اللہ سے بیزار             حافط سعید نے بھی تحریک طالبان کو خیر آباد کہہ دیا ۔

ہم اس مضمون کے آغاز میں ذکر کر چکے ہیں کہ مولانا صوفی محمد بھی فضل اللہ کے کردار اور شخصیت کی مذمت میں بیان جاری کر چکا ہے ۔مولانا صوفی محمد کے مطابق فضل اللہ اور تحریک طالبان میں اس کے ساتھی صحیح طور پر مسلمان ہی نہیں ہیں ۔انھوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے اور مدارس کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔اس سے قبل پاکستانی طالبان کا ایک رہنما طارق اعظم بھی فضل اللہ پراس قسم کےالزامات لگا چکا ہے ۔طارق اعظم کےمطابق فضل اللہ اور اس کے حامی مدارس کی انتظامیہ سے بھتہ لینے جیسے مکروہ کام میں ملوث ہیں ۔مدارس کو ملنے والے چندے سے یہ زبردستی اپنا حصہ لیتے ہیں جو غیر شرعی کاموں میں صرف کیا جاتا ہے وہ مزید یہ کہ تحریک طالبان اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے اور بے گناہ مسلمانوں کو ہی اس کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔طارق اعظم کی فراہم کردہ معلومات میں سب سے چونکادینے والی بات تحریک طالبان کا منشیات کے کاروبار کی سرپرستی کرنا ہے۔قرآن وسنت نے نشہ آور اشیاء سے ہر طرح کے تعلق اور واسطے کو حرام قرار دیا ہے مگر قرآن و سنت کے نظام کا مطالبہ کرنے والوں کی منافقت کو انہی کے دیرینہ ساتھیوں نے عوام کے سامنے عیاں کردیا ہے۔یقیناً یہ سبھی بڑے جرم اور گناہ ہیں جس کے ارتکاب کی مذمت اسی گروہ کےرہنماؤں کی زبانی ہونا فضل اللہ کے نظریات کی  غیر اسلامی ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے ۔

بعض صحافیوں کے مطابق فضل اللہ کا ہندوستان کے خفیہ اداروں سے گٹھ جوڑ تحریک طالبان کی اس قدر گمراہی اور انتشار کی وجہ بنا۔فضل اللہ کے “را” کے ساتھ روابط بھی ہر کسی پر عیاں ہیں اور طالبان کے کئی رہنماؤں کی پریشانی کا باعث ہیں۔افغانستان میں ہندوستان کے سفارتخانے اور متعدد ذیلی دفاتر “را”کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے گڑھ بن چکے ہیں یہیں سے تحریک طالبان کو ہر قسم کی مدد فراہم کی جارہی ہے تاکہ وہ  تخریب کاری کے ذریعے سے پاکستان کو غیر مستحکم کرسکے۔پاکستان میں ہونے والے زیادہ ترحملے اسی منصوبے کا شاخسانہ ہیں ۔

فضل اللہ کی زندگی اور کردار کے بارے میں جو کچھ میڈیا میں آیا ا س کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ذاتی مفاد کےلیے کسی حد تک بھی گر سکتا ہے۔ایک عام دہشت گرد سے تحریک طالبان کا امیر بننے تک اس نے ہر قسم کا ہتھکنڈا اختیار کیاتاہم اب فضل اللہ کاگھناؤنا کردارپوری طرح سے بےنقاب ہوچکا ہے اور باخبر صحافی کہتے ہیں کہ فضل اللہ کے خلاف مزید بغاوتیں ہوجانے کا قوی امکان موجود ہے۔تحریک طالبان کے کئی رہنما فضل اللہ کی افغانستان میں مستقل رہائش اختیار پر بھی ناراض ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اسے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہ کر تحریک طالبان کو سرگرم رکھنا چاہیے۔ فضل اللہ کےافغانستان میں مستقل قیام کا سبب اس کے “را” سے روابط کو سمجھا جا رہا ہے اور یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ فضل اللہ کو از سرِ نو طالبان رہنماؤں اور اہلکاروں کے سامنے اپنی قیادت کا جواز پیش کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top