یہ دہشت گردی ’فتنہ ِٗ خوارج ‘ کے علاوہ کچھ نہیں ہے

Dialogue on counter-terrorism strategy سیّد ناصررضا کاظمی
پُرامن معاشرے کو مسلح دہشت گردی کے ذریعے سے خوف زدہ کرنے والوں کا مکمل خاتمہ ہر مہذب ریاست کا اوّلین فریضہ ہے، یقیناًاِس میں کوئی دورائے نہیں اور دنیا متفق ہے خواہ ایسے گمراہ گروہوں کا تعلق معاشرے کے کسی بھی طبقے سے ہواگر وہ گروہ مسلح دہشت گردی کے راستے پر چل نکلے اور ملکی آئین و قانون کو خاطر میں نہ لائے، تو وہ سرکش کہلایا جائے گا اور آئین و قانون کا غدار قرار دیا جائے گا یہ ہی وہ گروہ ہے یا ہوسکتا ہے جسے سلسلہ ِٗ آفاقی ادیان کے سب سے آخری دینِ برحق دینِ اسلام نے ’دہشت گردوں ‘ کے گروہوں سے تعبیر کیا ہے اِن گروہوؤں میں چاہے کوئی کتنا ہی بڑا نا م نہاد مذہبی عالم ہی کیوں نہ ہو ‘ حافظ ہی کیوں نہ ہو ‘ مولانا ‘ قاری ‘ علامہ ‘ یا مفتی ہی کیوں نہ ہو وہ کسی احترام کا لائق نہیں ‘ایسے کوئی شخص ڈاکٹر یا انجینئربھی ہو تو وہ بھی اِسی گنتی شمار میں آئے گا یعنی وہ صرف قابلِ نفریں ’دہشت گرد ‘ کہلائے گا اِس سلسلے میں بحیثیتِ مسلمان ہم تو قرآنِ حکیم فرقانِ مجید کے علاوہ کسی اور الہیٰ قانون کی طرف کیوں رجوع کریں ہمیں یہاں پر یہ دیکھنا اور یہ سمجھنا ہوگا ایسے سرپھرے ‘ضدی ‘ ظالم و سفاک مسلح سرکش جنگجوباغیوں کے بارے قرآن پاک نے ہماری کیا رہنمائی کی ‘سورہ ِٗ المائدہ کی 33 ویں آئیہ ِٗ مبارکہ میں پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے ’بے شک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز راہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں ) اِن کی سزاء یہ ہی ہے کہ وہ قتل کیئے جائیں یا پھانسی دئیے جائیں یا اُن کے ہاتھ اور اُن کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا وطن کی زمین( میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یا قید ) کردئیے جائیں یہ تو اِن کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور اِن کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے ‘یوں تو فی زمانہ دنیائےِ اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ اِس وقت انتہائی بدترین اور قابلِ مذمت دہشت گردی کا شکار بنا ہوا ہے اِس کے اسباب کیا ہیں دہشت گردی کا یہ خوفناک بہیمانہ عفریت کیسے اور کیونکر عالمِ اسلام میں داخل ہوگیا عراق ‘ شام ‘ مصر اور یمن کے علاوہ سعودی عرب تک کے اہم مسلم ممالک اِس شکنجہ میں جکڑے نظرآتے ہیں یہ تو کل کی بات ہے جبکہ دنیا ئےِ اسلام کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے اندر اور پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر دہشت گردی شروع ہوئے آج 7-8 برس گزر چکے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق60-70 ہزار پاکستانی جن میں ملکی سیکورٹی ادارے پولیس‘ رینجرز اور اسکاوٹس کے بشمول خاص کر افواجِ پاکستان کے 20-25ہزار جوان وافسر اپنی قیمتی جانیں مسلح دہشت گرد عناصر کے خلاف جان توڑ لڑائی لڑتے ہوئے اپنے وطن پر نچھاور کرچکے ہیں جہاں یہ واضح حقیقت ہے وہاں پاکستانی عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد عناصر کون ہیں ؟ اِن کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ کیوں بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کے درپے ہیں پاکستانی عوام طبقات کو یہ سب اہم معلومات ملکی ذرائعِ ابلاغ سے ملتی ہیں اور پاکستان میں جب سے الیکٹرونک میڈیا کی بے مہار آزادی کا زمانہ آیا تو ہر نجی الیکٹرونک میڈیا کی اپنی اپنی علیحدہ نشریاتی پالیسی دیکھنے کو ملتی ہے سوائے چند ایک کو چھوڑ کر ‘ جنہیں یہ علم ہوتا ہے کہ جہاں ذرائعِ ابلاغ کا حلقہ خصوصاً الیکٹر ونک میڈیا کا حلقہ بہت وسیع ہوتا ہے جو عوامی رائےِ عامہ پر فوری اثرانداز بھی ہوتا ہے یہ الیکٹرونک میڈیا والے یا پھر اِ ن کے شعبہ ِٗ نیوز کے ذمہ داران جب بھی سیکورٹی اداروں کی طرف سے آنے والی کسی ایسی خبر کا تذکرہ عوام تک پہنچاتے ہیں جن میں کسی د ہشت گرد گروپ کی گرفتاری یا اُن کی ہلاکت کی خبر شامل ہوتی ہے تو بعض اوقات یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی گئی ہے کہ یہ ’میڈیا والے ‘ دہشت گردوں کویا اُن کے کسی بدنامِ زمانہ ظالم وسفاک سربراہ کے نام کے ساتھ مولانا ‘ قاری ‘ علامہ اور مفتی جیسے قابلِ احترام القاب لگا دیتے ہیں کہیں کسی کو حافظ ‘ڈاکٹر یا انجینئر کہہ دیا جاتا ہے یہ نہ علامہ ہوتے ہیں یا مولانا ‘ نہ قاری اور مفتی بلکہ یہ صرف دہشت گرد اور انسانیت کے نمایاں دشمن ہوتے ہیں ملکی ذرائعِ ابلاغ کے ہر شعبے خصوصاًالیکٹرونک میڈیا کو یہ نکتہ خاص طور پر اپنے پیشِ نظر رکھنا ہوگا دینِ اسلام میں مولانا ‘ قاری ‘ علامہ اور مفتی جیسے انتہائی اہم القاب ہمیشہ سے قابلِ احترام رہے دہشت گردوں نے تواتر کے ساتھ اپنے ناموں کے ساتھ ایسے اہم القاب استعمال کرکے عوام کو ایک بڑے طبقہ کو خاصا گمراہ کیا کہاں یہ انتہائی اہم القابات اور کہاں یہ گمراہ اور انسانیت کے نِرے دشمن ظالم وسفاک دہشت گرد ‘عوام کی واضح اکثریت ملکی افواج کے قدم بہ قدم مسلسل کڑی چوکسی سے لیس دہشت گردوں کے خلاف صف آرا ہے یقیناًاُنہیں یہ بالکل اچھا نہیں لگتا ہوگا کہ کوئی دہشت گرد مولانا ‘ قاری ‘ مفتی ‘ اور علامہ جیسے مناصب پر بھی فائز ہوسکتا ہے یا مہذب سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی ڈاکٹر یا انجینئر دہشت گردوں کے گروہوں میں بھی شامل ہوسکتا ہے لہذاء ہمیں اپنے ذرائعِ ابلاغ کو حاصل آزادی کو بھی عزیز رکھنا ہے اور یہ حقائق بھی اپنے پّلے باندھنی ہوگی کہ ذرائعِ ابلاغ کی آزادی کے اُصول وضوابط کا بھی خیال رکھنا ہے جیسا اُوپر بیان کیا جاچکا ہے ذرائعِ ابلاغ کو ہر مہذب معاشرے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے اِس لئے معاشرے کے اِس اہم شعبہ پر بڑی اہم اور بڑی خاص ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے جب پاکستانی عوام نے ‘ پاکستانی افواج نے ‘ پاکستانی معاشرے نے اپنے اندر گھسے ہوئے دہشت گردی کے اِس انتہائی گھٹیا اور قابلِ نفریں انسانیت کش عنصر کو اُس کی جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنے کا عزم کرلیا ہے تو سب سے پہلے ہمارے میڈیا کو اپنے سوچنے ‘ سمجھنے اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل میں تبدیلی کا عمل شروع کرنا ہوگا ،دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو میڈیا پر کھلی اور واضح نفرت کا سمبل بناکر اپنے ملک کے قارئین ‘ سامعین اور ناظرین کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر نے سے گریز کی پالیسی اپنانی ہوگی ایک بار نہیں گزشتہ کئی برسوں سے حج کے سالانہ خطبہ کے موقع پر مفتی ِٗ اعظم نے یہ فتویٰ صادر کردیا تھا تو پیچھے کیا باقی رہ گیا؟ انسانی جان کی عزت و حرمت پر اسلامی تعلیمات میں کس قدر زور دیاگیا ہے یہ بات سب مسلمان بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ دورانِ جنگ بھی ہمارا دین یہ تعلیم دیتا ہے کہ اِسلام غیر محارب لوگوں کی قتلِ عام کی اجازت نہیں دیتا اپنے آپ کو یہ دہشت گرد کیسے اور کیونکر مسلمان کہتے ہیں اسلامی اخوت اور بقائےِ باہمی کا رنگ و بو کی کوئی ایک جھلک اِن میں نام کو بھی دکھائی نہیں دیتی اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ فتنہ ِٗ خوارج کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top