چپل سے کرسی تک” – غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی*

1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل
‏تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی نور بانو۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔

‏نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: “بڑی ہو کر کیا بنو گی؟”
‏نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: “باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔”
‏پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ “غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔”

2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی
‏میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔

‏جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں CSS کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔

‏دوست کہتیں: “نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔”
‏نور جواب دیتی: “غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔”

3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی
‏CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔

‏گاؤں والے طعنے مارتے: “اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔”
‏رشتہ دار کہتے: “عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔”

‏ماں روتی: “بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔”
‏نور ماں کے پاؤں دباتی: “امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے ‘دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی’۔ بس تھوڑا صبر۔”

4. چوتھی بار اور تاریخ
‏چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔

‏رزلٹ آیا۔ نور بانو – CSS 2025 – پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔

‏جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: “یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔”

5. کمشنر نور بانو
‏آج کمشنر نور بانو لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔

‏پہلا حکم کیا جاری کیا؟ “تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔”

‏جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔
‏”بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔”

‏استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔
‏نور نے کہا: “باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top