ماں کا خط شہید بیٹے کپٹن ربانی کے نام
کاش… میرے بیٹے۔ ایک اور سال۔ ایک اور رمضان۔ دنوں اور راتوں کا ایک اور سلسلہ جو یہ دنیا بے خبری میں گزارتی جا رہی ہے — اس بات سے بالکل بے پرواہ کہ میرے لیے وقت اسی لمحے رک گیا تھا جب تم نے یہ دنیا چھوڑی۔ کیلنڈر بدلتا ہے، موسم بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں — لیکن میرے سینے میں یہ درد؟ یہ وہیں ہے، بالکل وہیں جہاں تم اسے چھوڑ گئے تھے۔ اتنا ہی گہرا، جتنا اس دن تھا۔ ایک ماں یہ کیسے بیان ...
Read more ›