داعش کے ہاتھوں مسلمان خواتین کا استحصال، القاعدہ اور طالبان کا تسلسل

داعش کے ہاتھوں مسلمان خواتین کا استحصال، القاعدہ اور طالبان کا تسلسل

 افتخار حسین

داعش کے ہاتھوں مسلمان لڑکیوں کے جنسی استحصال کا کچھ ادراک اُس سے متاثر ہونے والی خواتین کو ہوجائے تو وہ ابو بکر البغدادی سے شدید متنفرہو جائیں۔ بدقسمتی سے اس گروہ کا دھوکے پر مبنی پروپیگنڈا کچھ خواتین کو بہلا پُھسلا لیتا ہے چنانچہ تاشفین َملک جیسی امریکہ مقیم پاکستانی لڑکی اور مدرسہ حفصہ کی طالبعلم خواتین اس کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں اور بغدادی سے بیت کااعلا ن کرنے جیسی غلطی کر دیتی ہیں ۔حال ہی میں ایک ہندوستانی مسلمان نوجوان جو داعش کا رکن بنا تھا اس نے انکشاف کیا ہے کہ اسے داعش نے ایک شامی لڑکی کے ذریعے سے ورغلا کر شام بُلایا تھا۔ وہ مزید کہتا ہے کہ شام میں اس نے خوداپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سے مسلمان خواتین سے جنسی زیادتیاں کی جا رہی ہیں اور انھیں مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے یہاں ہم اس مسئلے کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ حقائق بیان کرتے ہیں تاکہ دہشت گرد گروہوں کے مسلمان خواتین پر مظالم مزید واضح ہوجائیں اور گمراہی کی اس روش کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

القاعدہ نے جس بے راہ روی کی بنیاد اسلام اور جہاد کے نام پر ڈالی تھی داعش اس کا ایک بہت ہی بھیانک نتیجہ ہے ۔داعش ہرلحاظ سے اب القاعدہ کو دہشت گردی اور سفاکی میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔بالخصوص اس گروہ کے عراق اور شام میں خواتین پرمظالم کی خبریں ہر دردمند انسان اور مسلمان کا دل دہلا دیتی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ داعش کے اہلکار خواتین کے ساتھ اس غیر انسانی اور غیر اسلامی سلوک کو قرآن وسنت کے مطابق جائزقرار دے رہے ہیں۔ داعش نے بارباراپنے آن لائن میگزین “دبق” میں بے محل اور جھوٹی دلیلوں سے عورتوں کو غلام بنانا اور ان کی خریدوفروخت کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔جہالت میں ڈوبا ہوا یہ گروہ اور اس کے رہنما شاید یہ نہیں جانتے کہ بہت سے مشتشریکین نے اپنی کتابوں میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے غلامی کو دنیا سے ختم کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہےلہذا مسلم اور غیر مسلم عورتوں کو غلام بنانا یا ان سے زور زبردستی کرنا بہت بڑا جرم ہے۔

داعش اور القاعدہ نے اپنے حمایتی اور حلیف گروہوں کے ذریعے سے دنیا بھر میں دہشت گردانہ اودھم مچا ررکھا ہے۔ان تنظیموں کی کاروائیوں بالخصوص خودکش حملوں کی ہر مسلمان عالم اور مفتی نے مذمت کررکھی ہےدنیا بھر کے جید علماء نے ان تنظیموں اور ان کے غیر اسلامی ہتھکنڈوں کی رد میں فتوے جاری کر رکھے ہیں۔عالمِ اسلام کے سبھی رہنما اور علماء داعش اور القاعدہ کے جہاد کو دہشت گردی قرار دے چکے ہیں اور انھیں ہر طرف سے علمی دلیلوں سے رد کیاجا چکا ہے۔جب ان تنظیموں کا جہاد ہی غلط ہے تو ان کے وہ جرائم جنھیں یہ جہاد کی آڑ میں کررہے ہیں کس طرح سے جائز ہوسکتے ہیں مگر داعش ، القاعدہ اور ان کے حلیف دہشت گرد گروہوں کی سرکشی میں کوئی کمی نہیں آرہی ہےبلکہ ان کے رہنما نت نئی سازشوں اور جرائم کے ذریعے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بن رہےہیں۔

داعش کے ہاتھوں سے عورتوں کے استحصال کی بنا پر اسلام ایک بار پھر بے جا تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔داعش کے اہلکار مسلمان اور غیر مسلمان خواتین کی آبرو ریزی اور انھیں جسم فروشی جیسے مکروہ کاموں پر مجبور کررہےہیں ۔غلام عورتیں داعش کے رہنماؤں کو تحفے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور ان کی خریدوفروخت کو ایک معمول بنا لیا گیا ہے ۔گزشتہ سال داعش نے       155 یزیدی فرقے کی عورتوں کو محض اس لیے ہلاک کردیا کیونکہ انھوں نے اس کے اہلکاروں سے زبردستی شادی کرنے سے انکار کردیا تھا ۔یہ سبھی اعمال اسلام ،قرآن اور سنت کی روح سے قبیح اور گناہ ہیں مگرداعش کے رہنما اپنے گھمنڈ کے سبب کسی مسلمان     عالم ،مفتی اور اما م کی بات سننے کو تیار نہیں ۔

القاعدہ نے داعش کی طرح کبھی یوں کھلے عام خواتین پر مظالم نہیں ڈھائے تاہم اس کی بھی ایک حلیف دہشت گرد گروہ      بوکو حرم نے 2014 میں 275 نوجوان لڑکیوں کو ان کے سکول کے ہاسٹل سے اغواء کر لیا تھا۔بوکو حرم کے رہنما ابو بکر شاکہو نے خود ایک وڈیو پیغام میں اعلان کیا تھا کہ ان لڑکیوں کو فروخت کیا جائیگامگر بین الاقوامی میڈیا سے خبریں آتی رہی تھی کہ ان لڑکیوں کی زبردستی بوکوحرم کے اہلکاروں سےشادیاں کرائی جارہی تھی۔دونوں صورتوں میں یہ واقعہ اندوہناک ہے اور انسانی اور اسلامی اقدار کےخلاف ہے۔

یہ صورت ِحال ہر درد مند مسلمان کے لیے تکلیف دہ ہے اور ان سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جن لوگوں نے    داعش ،القاعدہ اور ان کے حامی گروہ کی اندھی تقلید کررکھی ہے۔ان دہشت گرد گروہوں نے بار بار ثابت کیاہے کہ ان کا نہ تو اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مسلمانوں کی بھلائی سے کسی قسم کی غرض رکھتے ہیں ۔وہ محض اسلام دشمن قوتوں کی ایماء پر اسلام کےدامن کو اپنے غیر انسانی جرائم سے داغدار کر رہے ہیں۔

     تحریک طالبان پاکستان بھی اس قسم کے شرمناک اقدام کے مرتکب ہوتی رہی ہے جو پاکستان میں القاعدہ اور داعش کابڑا حامی گروہ ہے۔خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے ضمن میں اس کا کردار ہمیشہ ہی منفی رہا ہے۔یہ گروہ بھی داعش اور القاعدہ کے گھناؤنے جرائم میں مکمل طور پر شریک ہے مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی بھلائی اس کے اہلکاروں کو ذرا بھی نہیں بھاتی ۔اس کے منفی کردار کی عکاسی اس کے دہشت گردانہ پیغامات سے باخوبی ہوتی ہے۔مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف زہر اگلنا اسکے ترجمانوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت میں تو یہ گروہ حد سے ہی بڑھا ہوا ہے۔خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کر کے تحریک طالبان نے ان پر تعلیم کی راہیں بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔عورتوں کوبات بے بات سنگین نتائج کی دھمکی دینا بھی اس گروہ کے رہنماؤں اور ترجمانوں نے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔بعض صحافیوں کاخیال ہے کہ تحریک طالبان کی قیادت نے سوات میں زبردستی کی شادیوں کی سرپرستی کر رکھی تھی تاہم اس گروہ کے   ملالہ یوسف زئی سے سلوک نے اس کی حد سے بڑھے ہوئے شرمناک کردار کا پول دنیا بھر میں کھولا۔

     یقیناً یہ صورتِحال ہماری ساری قوم کی فکرمندی کا باعث ہے اور تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔اگر ہم نے داعش کےہاتھوں عراق اور شام کی مسلمان خواتین سے ہونے والے ظلم سے اپنی بچیوں اور عورتوں کو بچانا ہے تو ہمیں داعش اور القاعدہ کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان جیسے ان کے حامی گروہوں سے مکمل نجات حاصل کرنی ہوگی۔اس ضمن میں ساری پاکستانی قوم کو سامنے آنا ہوگا اورہمیں من حیث القوم اپنی خواتین میں داعش کی بابت آگاہی پیدا کرنی ہوگی۔ہم مزید تاخیر اور تذبذب کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ تاشفین ملک اور مدرسہ حفصہ کی لڑکیوں کا گمراہ ہو جانا ہمارے ملک میں مزید گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top