واہگہ بارڈر پرحملہ۔ دہشت گردی اور نا حق خونریزی کی مثال

واہگہ بارڈر پرحملہ۔ دہشت گردی اور نا حق خونریزی کی مثال

ایس اکبرCorps-commander-lahore-lt-gen-naveed-zaman-wagah-photo-ispr

            واہگہ بارڈرپر پرچم اتارنے کی تقریب 1959 سے مسلسل منعقد ہورہی ہے۔ دونوں اطراف سے ہرروز ہزاروں لوگ واہگہ بارڈر پہنچ کراس تقریب کانظارہ کرتے ہیں۔ دہشت گردوں نے ایک بہت ہی سوچی سمجھی سازش کے تحت اِس تقریب کے شرکاء کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ 2 نومبر کو واہگہ بارڈر پر ہو نے والے خودکش حملے میں اب تک تقریباً 60سے زیادہ افراد جاں بحق جبکہ100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ طالبان سمیت تقریباً 3 دہشت گرد گروپوں نے واہگہ بارڈر پر ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی ہےجن میں جماعت الاحرار ، جند اللہ اور ٹی ٹی پی کےمہر محسود گروپ شامل ہیں۔جماعت الاحرار کےترجمان احسان اللہ احسان نے دیگر گروپوں کے اِس دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہونےکے دعوٰی کومسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی اِس قتل ِ عام کی ویڈیو جاری کرے گے ۔ اپنے دعوٰی کو سچ ثابت کرنے کے لیے جماعت کے ترجمان نے خودکش بمبار کا نام حنیف اللہ بتایا ہےاور یہ بھی کہا   ہے کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کے بدلےمیں کیا گیا ہے۔

            دہشت گرد اپنے آپ کو اسلام کا سچا پیروکاراور ٹھیکیدار گردانتے ہیں۔اُن کے لیے تمام غیراسلامی اور غیر انسانی سر گرمیاں حلال اوراِسلامی تعلیمات کےعین مطابق ہے۔یہ کیسے مسلمان ہیں جن کے نزدیک معصوم بچوں،عورتوں اور نہتے لوگوں کا نا حق قتل عام کوئی بڑی بات نہیں ۔اسلام اپنی تعلیمات اور اَفکار و نظریات کے لحاظ سے اَمن و سلامتی ، خیرو عافیت اور حفظ و اَمان کا دین ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نزدیک مسلمان اور مومن صرف وہی شخص ہے جو نہ صرف تمام انسانیت کے لئے پیکرِ امن و سلامتی اور با عثِ خیر و عافیت ہو بلکہ وہ اَمن و آشتی، تحمل و برداشت، بقاء باہمی اور احترامِ آدمیت جیسے اوصاف سےبھی متصف ہو ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی اَمن و سلامتی ، محبت و رواداری ،   اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے برعکس انتہا پسندی، نفرت و تعصب، افتراق و انتشار، جبر و تشدد اور ظلم کا راستہ اختیار کرنے والے اور معصو م شہریوں کا خون بہانے والے لوگ چاہے ظاہراً اسلام کےکتنے ہی علم بردار کیوں نہ بنتے پھریں ، ان کا دعوٰیِ اسلام ہر گز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے والوں کے لئے شدید اور دردناک عذاب کی وعید ہے۔ جب اسلام کسی ایک فرد کے قتل اور کسی ایک انسان کی جا ن تلف کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، توکیسے ہوسکتاہے کہ وہ خودکش حملوں ، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے   ہزاروں شہریوں کے جان و مال کو تلف کرنے کی اجازت

دے۔ لہٰذا جولوگ نو جوانوں کو خون ریزی اور قتلِ عام پر اکساتےہیں اور جو ان کےکہنے پر خودکش حملوں میں حصہ لیتےہیں، دونوں نہ صرف اسلامی تعلیمات سےانحراف کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ دنیا و آخرت میں شدید عذابِ الٰہی کے حقدار ہیں اور اسلام جیسے پُر امن اور معتدل و متوازن دین کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

         یہ پہلی بار نہیں کے دہشت گردوں نے ہنستے مسکراتے لوگوںکو اپنے ظلم کا نشانہ بنایاہو بلکہ اِس سے قبل بھی یہ دہشت گرد اِسی ظلم و بربریت کا ثبوت دیتے رہے ہیں۔ انہی ظالموں کو نیست و نابود کرنے کے لئے اِن کے خلاف عسکری کاروائی کی گئی جو کہ کامیابی سے جاری ہے۔ ملک وقوم کے لئے ہماری مسلح افواج کےہزاروں جوان اور آفیسرز اپنی قیمتی جانوں کا نذر انہ پیش کر چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ہماری مسلح افواج پاک سر زمین کو دہشت گردی سے پاک کر نے کا تہیہ کر چکی ہے۔ اس حوالے سے ہما ری بہادر مسلح افواج کو پوری قوم کا بھر پو ر اعتماد حاصل ہے۔ کیونکہ قوم جانتی ہے کہ اگر ہم نے ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنا ہے تو پہلے اسے دہشت گردوں سے محفوظ کر نا ہوگا ۔ ہم علاقائی اور بین الاقوامی امن کے حق میں ہیں۔ ہم   اپنے ملکی وسائل اپنے غریب عوام کی بہتری کے لیے محفوظ کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ملک پاکستان کو ایک فلاح اور عوام دوست ریاست بنانے کا عزم رکھتے ہیں مگر فلاحی ریاست کا خواب سر زمین پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اس مقصد کیلئے قوم کو نہ صرف اتحاد اور نظم و ضبط کا ثبوت دینا ہو گا بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد اور یکجہتی کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔دہشت گردوں کا ہدف پنجاب ہو یا سندھ، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخواہ یا گلگت اور بلتستان،در حقیقت اُن کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوم کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top