پرویز مشرف نواز شریف پر ہتک عزت کا دعوی کریں

Mushrafنواز شریف اگر پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ درج کرا دیں تو سابق صدر کے لیئے بہت اچھا ہوگا۔ اگر نہ کریں — اور غالب امکان ہے کہ نہیں کریں گے — تو جنرل صاحب نواز شریف کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی دائر کر دیں۔

پرویز مشرف ہتک عزت کے اپنے دعوی میں کہیں کہ نواز شریف پانچ سال سے ان پر غداری کا الزام لگاتے چلے آ رہے ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ثبوت مقدمہ چلا کر اور غداری ثابت کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا تھا لیکن اس کی نوبت اب تک نہیں آئی۔ دریں اثنا، نواز شریف انھیں لگاتار “غدار” کہہ کر بدنام کر رہے ہیں۔ غداری کے الزام کی بنیاد عدالت عظمی کا 3 نومبر 2007 کا “فیصلہ” ہے۔ (اس کی تفصیل آگے آئے گی۔)

اگر جنرل صاحب ملک بھر میں ہلچل پیدا کرنا چاہیں تو نواز شریف کے خلاف دعوی میں ان تمام افراد کو بھی مدعا علیہان نامزد کر دیں، جنھوں نے پانچ سالوں میں زبانی یا تحریری طور پر انھیں غداری کا مجرم قرار دے کر ان کی کردار کشی کی۔ ان میں صحافی، کالم نگار، ٹیلی ویژن اینکر، وکیل، مبصر، سیاست کار اور بہت سے دوسرے شامل ہو سکتے ہیں۔ ان ججوں کے بھی نام شامل کریں، جنھوں نے بالواسطہ طور پر انھیں مجرم قرار دیا۔

جنرل صاحب ازالہ حیثیت عرفی کے دعوی میں صرف ایک روپیہ ہرجانہ طلب کریں۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ انھیں پیسہ سے غرض نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ مدعا علیہان کو مجرم قرار دیا جائے اور انھیں مناسب سزا دی جائے۔

دعوی سب سے نچلی سطح پر دائر کیا جائے، یعنی کسی سول جج و جوڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت میں۔ اس طرح دعوی اپیلوں کے کئی مرحلوں سے گزر کر ہی اعلا عدالتوں میں جائے گا۔ اس طرح اگر کوئی عدالت عدل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تو سب پر ظاہر ہو جائے گا۔

سول جج ایسا ہونا چاہیئے، جو نہ کسی دبائو میں آئے اور نہ کوئی لالچ قبول کرے۔ اس طرح اس کی اپنی نیک نامی ہوگی۔ البتہ اسے فوج کی طرف سے اتنی مدد ملنی چاہیئے کہ اس کے سابق سربراہ کے دعوی کے فیصلہ تک اس کا تبادلہ نہ ہو اور عدالتی کاروائی میں کوئی مداخلت بھی نہ ہو۔

غداری کے الزام کی بنیاد عدالت عظمی کا 3 نومبر 2007 کا مبینہ فیصلہ ہے، جس میں کہا گیا کہ اس تاریخ کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ہنگامی حالت لگا کر آئین کی دفعہ 6 کی خلاف ورزی کی۔ یہی الزام ان پر اکتوبر 1999 کی کاروائی پر بھی لگا لیکن عدالت عظمی نے اسے جائز قرار دیا۔ افتخار چودھری کے ہٹائے جانے کے بعد ان کی جگہ لینے والے چیف جسٹس، عبد الحمید ڈوگر، نے 3 نومبر کی کاروائی کی بھی توثیق کر دی۔ دونوں صورتوں میں پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہ تھی، کیونکہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ عدالت عظمی کے کسی فیصلہ کی پارلیمنٹ سے توثیق کرائی جائے۔ یہ ویسے بھی غلط ہوگا کیونکہ کسی قدم کے قانونی یا آئینی ہونے کے بارے میں عدالت عظمی کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ آئین یا قانون میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن عدالت کے کسی فیصلہ کو منظور یا نامنظور نہیں کر سکتی۔ دونوں کو اپنے اپنے دائرہ میں رہنا ہوتا ہے۔

اب آئیں 3 نومبر 2007 کے “فیصلہ” کی طرف۔ عدالت عظمی کسی مسئلہ کا از خود نوٹس تو لے سکتی ہے لیکن متعلق فریق کا موقف سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ یہ بنیادی اصول ہے۔ 2 نومبر کو اعتزاز احسن نے درخاست دی کہ ہنگامی حالت کے اعلان کی افواہیں گرم ہیں۔ چنانچہ عدالت ہنگامی حالت کے خلاف حکم جاری کر دے۔ اس درخاست پر کوئی کاروائی نۃ کی گئی۔ نہ کوئی بینچ بنایا گیا اور نہ کسی کو نوٹس دیا گیا۔

جب ہنگامی حالت کا اعلان ہوا تو عدالت کو سب سے پہلے اٹارنی جنرل کے ذریعہ حکومت کو نوٹس دینا چاہیئے تھا۔ جب سماعت شروع ہوتی تو دلائل سنے جاتے۔ خود اعتزاز احسن کو بلایا جاتا۔ کوئی اور پیش ہوتا تو اس کا موقف بھی سنا جاتا۔ اس کے بعد فیصلہ سنایا جاتا۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ حکومت کے کسی فعل کے کتنی دیر بعد عدالت کا فیصلہ آیا۔ عدالت اگر کسی کاروائی کو خلاف آئین و قانون قرار دے دے تو وہ کالعدم ہو جاتی ہے، چاہے کتنی دیر پہلے ہوئی ہو۔

تاہم بنیادی اور لازمی تقاضہ کو محض تکلف سمجھا گیا۔ عدالت کا وقت ختم ہونے کے باوجود کچھ جج اس انتظار میں بیٹھے رہے کہ جیسے ہی ہنگامی حالت کا اعلان آئے، وہ فورا اسے غیرآئینی قرار دے دیں۔ اس عجلت کا قطعا کوئی جواز نہ تھا۔

سابق چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر کو جب توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا تو انھوں نے اسے چیلنج کیا۔ انھوں نے 3 نومبر کے فیصلہ کو بھی بلاجواز قرار دیا۔ ان کی درخاست پر ابھی تک سماعت نہیں کی گئی۔ ان کے وکیل، نعیم بخاری، نے فیصلہ کے خلاف درخاست میں بہت سے دلائل دیئے۔

آئین کی دفعہ 6 میں اب جو ترمیم کی گئی ہے، اس میں آئین معطل کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ہنگامی حالت کا اعلان کیا، یہ ترمیم موجود نہیں تھی۔ اس لیئے اس وقت نافذ دفعہ 6 کے تحت آئین کو معطل کرنا جرم نہیں تھا۔ (ضیاء الحق نے بھی آئین معطل کیا تھا۔ اس لیئے اس کےخلاف بھی جرم نہیں بنتا تھا۔) آئین کی دفعہ 12 کے تحت کسی جرم کو موثر بہ ماضی قانون کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی۔ دوسرے لفظوں میں، جو قانون جرم سرزد ہونے کے وقت نافذ ہو، اسی کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ بعد میں آنے والے قانون یا کسی ترمیم کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس لیئے جرم سرے سے بنتا ہی نہیں۔

“فیصلہ” کے سرے سے غلط ہونے کے بارے میں جسٹس ڈوگر کے وکیل، نعیم بخاری، نے 15 کے قریب دلائل دیئے۔ طریقہ یہ ہے کہ جب فیصلہ سنایا جائے تو عدالت میں بیٹھے تمام جج اسی وقت فیصلہ پر دستخط کر کے اٹھیں۔ دستخط حفظ مراتب کے تحت کیئے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس کے بعد سب سے سینیئر جج، جسٹس بھگوان داس، نے دستخط کرنے تھے۔ وہ اس دن کراچی میں تھے۔ لوٹنے پر انھوں نے دستخط کیئے اور اس کے نیچے 5 نومبر کی تاریخ لکھ دی۔ دوسرے ججوں نے ان کے بھی بعد دستخط کیئے۔ گویا اس سے پہلے فیصلہ نافذ ہی نہ ہوا تھا۔

دراصل، فیصلہ کی دو نقلیں جاری ہوئیں۔ پہلی نقل پر صرف چیف جسٹس کے دستخط تھے۔ یہی عدالت سے باہر رپورٹروں میں تقسیم کی گئی۔ دوسری نقل بعد میں جاری ہوئی جس پر دوسرے ججوں کے بھی دستخط تھے۔ دونوں کی نقلوں کے عکس شائع کر دیئے جائیں تو حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔

اب بعض اہم سوالات اٹھتے ہیں:

1 جسٹس ڈوگر کی زیر التوا اپیل سننے کے بعد 3 نومبر کے “فیصلہ” کا کیا بنے گا؟ ظاہر ہے اپیل افتخار چودھری کے سبک دوش ہونے کے بعد ہی سنی جائے گی۔

2 کیا افتخار چودھری اور دوسرے ججوں کے سبکدوش ہونے کے بعد پرویز مشرف ان کے خلاف بھی ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی کریں گے کیونکہ عدالت کی طرف سے انھیں بلاجواز مجرم قرار دیا جاتا رہا؟

3 کیا 150 کے قریب وہ جج بھی ہتک عزت کے دعوی میں شامل ہو جائیں گے، جنھیں افتخار چودھری کے حکم پر برخاست کر دیا گیا یا جو استعفی دینے پر مجبور کیئے گئے؟ کیا انھیں بھی بحال کیا جائے گا اور انھیں بھی واجبات ادا کِیئے جائیں گے؟

4 کیا وہ لوگ بھی، جن کے خلاف افتخار چودھری نے غیرمنصفانہ فیصلے دیئے، ان کے خلاف مقدمات درج کرائیں گے؟

دیکھیں نیا سال کیا کچھ اپنے جلو میں لے کر آتا ہے۔

 

​​
الله حافظ!

محمّد عبد الحمید

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top