دفاعی اداروں کے ملازمین  کی سہولیات کا  حقیقی خاکہ

‏تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

‏ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

‏دفاعی اداروں میں تنخواہ اُتنی ہی ہوتی ہے جتنی باقی سب سرکاری ملازمین کی. ٹیکس بھی تنخواہ سے اُتنا ہی کٹتا ہے اور ہر ماہ کٹتا ہے.

‏کسی فوجی کو سرکاری گھر مفت نہیں ملتا، پورا ہاؤس رینٹ اور تنخواہ کا پانچ فیصد گھر کی مد میں کٹوتی ہے. جسطرح واپڈا، بلدیات، سیکرٹیریٹ، بیوروکریسی، ریلوے اور اوقاف کے ملازمین کو گھر ملتا ہے ایسے ہی فوجیوں کو بھی ملتا ہے. جیسے پولیس لائنز ہوتی ہیں، ججز، ڈی سی اور واپڈا کالونی ہوتی ہیں ویسی ہی فوجیوں کی رہائشی کالونی ہوتی ہے. البتہ انکی دیکھ بھال دیانت داری سے ہوتی ہے. یہاں گراؤنڈ اور گلی میں اپنے بچوں کے لئے مزید کمرے نہیں بنائے جاتے. اپنی پوسٹنگ پر فوجی گھر چھوڑ بھی دیتے ہیں. باقی محکموں کی طرح ریٹامنٹ کے بعد تک گھر پر قبضہ نہیں رہتا.

‏کسی فوجی کو مفت یونٹس یا سستی بجلی نہیں ملتی. بجلی کی قیمت بالکل وہی یے جو پورے پاکستان کے لئے ہے. البتہ دفاتر، جوانوں کی لائنز اور ساز و سامان رکھنے والے اسٹورز کو محدود یونٹس MES کے زریعے ملتے ہیں، اور انکی ادائیگی مرکزی سیٹلمنٹ میں ہوتی ہے. جسکا آڈٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تک جاتا یے.

‏مفت کا ملازم ہر افسر کو ایک ملتا یے، یہ تیس ہزار ملازمین جنہیں عام طور بٹ مین کہا جاتا ہے سرکاری نوکریوں پر ہی ہوتا ہے. اسطرح کے تیس ہزار ملازمین باقی سرکاری اداروں میں کاغذ پر ہی بغیر بسم الله کھا پی لئے جاتے ہیں. اسٹاف کار برگیڈیر رینک سے ملنا شروع ہوتی ہے، برگیڈیر کو 1300 سی سی کی کار ملتی ہے. گاڑی نے شہر سے باہر جانا ہو تو لکھت میں اجازت لینی ہوتی ہے، کار گھر میں نہیں بلکہ ملٹری ٹرانسپورٹ پارکنگ میں کھڑی ہوتی ہے. اور یہ کار زاتی نہیں ہوتی، خود سے ڈرائیو کرنے کی بھی اجازت نہیں.

‏ڈی ایچ اے کاکوئی پلاٹ مفت نہیں ملتا، وہ پلاٽ جو 18 سال نوکری پر الاٹ ہوتا ہے اور جسکا قبضہ /ملکیت اگلے دو سال میں ملتا ہے اسکے ڈولمپنٹ چارجز پورے اور زمین کی قیمت کا کچھ حصہ ادا کرنا پڑتا ہے. آج کل گریڈ اٹھارہ کے فوجی افسر کو جو پلاٹ ملتا ہے اس پر 28/30 لاکھ ادا کرنے پڑتے ہیں اور اس پلاٹ کی مارکیٹ میں قدر 50 لاکھ بھی نہیں. جب ملک میں پراپرٹی کا بوم تھا تو یہاں بھی حالات مختلف تھے.

‏موٹروے اور ڈیمز کے ٹھیکے FWO یا NLC لیتے ہیں باقاعدہ مقابلے پر آکر لیتے ہیں. ان اداروں میں 76 فیصد ملازمین سول ہیں، جو فوجی بھی ہیں انکی تنخواہ دفاعی بجٹ سے بند ہوجاتی ہے.

‏سستے میں جہاز اور ریلوے ٹکٹ پر واؤچرز ویسے ہی ملتے ہیں جیسے باقی وفاقی اداروں بشمول واپڈا ملازمین کو. ٹرانسفر پوسٹنگ کے علاوہ سال میں آدھی قیمت کے دو واؤچرز چھٹیوں کے لئے بھی ملتے ہیں ،کیونکہ ایسا نہیں ہوتا کہ فوجی دینہ کا رہنے والا ہو اور سرکاری نوکری جہلم میں گزارے یا کوٹری کا رہنے والا ہو اور 23 سال حیدرآباد کراچی میں ہی نوکری مکمل ہوجائے.

‏زرعی زمین سب کو نہیں ملتی نا ہی صرف افسران کو ملتی یے، NCOs, JCOs اور کمیشنڈ افسران کو زمین کارکردگی کی بنیاد پر ملتی ہے، جو 15 سے 25 ایکٹر ہوتی ہے اور کوئی آباد زرعی زمین نہیں ملتی بلکہ چولستان میں، تھر سے ملحقہ پٹی میں یا سرحدی علاقوں میں غیر آباد زمین الاٹ ہوتی ہے جس پر صفر سے کام شروع ہوتا ہے. آج سے 40/60 سال پہلے بدین سے مٹھی کے درمیان زمینیں ایسے ہی آباد ہوئی ہیں، یزمان، رحیم یار خان اور بہاولپور کے مغربی بعید

میں جہاں ریت اڑتی تھی وہاں بھی کاشت کاری ایسے ہی شروع ہئی

پوسٹد بایئ

ردا ظہیئر

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top