جرنیلی کھانا

از   رعایت اللہ فاروقی

*کرنیلی گھر کا کھانا vs   غالبا 1997ء کی بات ہے، ہمیں جنرل حمید گل مرحوم نے کسی کام سے اپنے گھر طلب کیا تو کچھ سوچ کر وقت تبدیل کرتے ہوئے فرمایا “یوں کرو، رات کے کھانے پر آجاؤ !” ہم پہنچ تو گئے مگر کھانا اپنے گھر کھا کر اور جب انہیں بتایا کہ ہم کھانا کھا آئے ہیں تو حیرت سے فرمایا “میں نے کھانے پر بلایا تھا” “سر ! اپنے گھر کھالیا یا آپ کے گھر، ایک ہی بات ہے” کچھ ماہ بعد پھر ہمیں کھانے پر بلا لیا تو اس بار ہم نے فون پر ہی کہہ دیا “سوری سر ! ہم فوجی افسران کے گھر کھانا نہیں کھاتے” انہوں نے وجہ پوچھی تو ہم ٹال گئے لیکن جب ان کے گھر پہنچے تو ہمارے بیٹھتے ہی سوال داغا “فوجی افسران کے کھانے میں کیا مسئلہ ہے ؟ کیوں نہیں کھاتے ؟” ہم نے ٹالنے کی کوشش کی تو بہت شفقت سے بولے “بلا تکلف بتاؤ، مجھے برا بالکل نہیں لگے گا” ہم نے گلہ کھنکارتے ہوئے عرض کیا “سر فوجی افسر کے گھر رات کا کھانا کھانے سے بہتر ہے بندہ سولی پر لٹک جائے !” “وجہ ؟” “سر ! ایک تو یہ کھانا لیٹ کھاتے ہیں، اوپر سے غضب یہ ہوتا ہے کہ جب کھانے کا وقت قریب آہی جاتا ہے تو اردلی آکر پہلے ڈائننگ ٹیبل کا معائنہ کرتا ہے کہ اس کا سائز وہی گزشتہ شب والا ہے یا کوئی رد و بدل ہوچکا ہے ؟ جب اسے تسلی ہوجائے کہ ٹیبل کا سائز وہی ہے تو پھر یہ دس منٹ کے لئے غائب ہوجاتا ہے۔ دس منٹ بعد لوٹتا ہے تو صرف نپکن لاتا ہے۔ ہر کرسی کے آگے پہلے نپکن بچھاتا ہے پھر موٹروے تعمیر کرنے والے انجینئر کی طرح جھک کر یہ دیکھتا ہے کہ نپکن ریاضی کے تمام قواعد کے مطابق سیدھا ہے یا نہیں ؟ یوں دس منٹ اسی میں لگ جاتے ہیں، اور اس کے بعد وہ پھر دس منٹ کے لئے غائب۔ اگلی بار لوٹتا ہے تو صرف پلیٹیں لاتا ہے۔ ظاہر ہے ہر پلیٹ بھی اس نے ریاضی کے مسلمات کے مطابق ہی ایک ایک سوتر ناپ کر رکھنی ہوتی ہے۔ یہ مرحلہ بھی پورا ہوجائے تو ایک بار پھر دس منٹ کا وقفہ جس کے بعد وہ صرف چھری کانٹے لاتا ہے۔ اور ریاضی ان پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس کے بعد پھر دس منٹ کا وقفہ پھر گلاس بمع ریاضی، اور اس کے آدھے گھنٹے بعد آنا شروع ہوتا ہے کھانا۔ لیکن سر ! دل تو یہ دیکھ کر بیٹھ جاتا ہے کہ یہ ساری “جنگی مشق” فقط دو شامی کبابوں، ایک چمچی پالک، اور ایک ہی چمچی چنے کی دال بمع ڈیڑھ چپاتی کے لئے تھی۔ سر یہ ظلم نہیں تو کیا ہے کہ ان دو شامی کبابوں اور ایک چمچی پالک اور ایک ہی چمچی دال کو ختم بھی یوں کرنا ہے کہ ہے اس پر 45 منٹ 47 سیکنڈز لگیں ؟”  جب ہم نے نپکن کا ذکر کیا تھا تو جنرل صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ وہیں سے نمودار ہوگئی تھی اور اگلے مراحل پر پہلے وہ تبسم گہرا، پھر ہنسی میں بدلتا چلا گیا، لیکن جب ہم دو شامی کبابوں کے ذکر پر پہنچے تو ان کا قہقہ ڈرائینگ روم کے درودیوار ہلا رہا تھا اسے سنبھال چکے تو ایک عجیب سوال کیا “اچھا یہ بتاؤ، وہ کرنل تھا یا بریگیڈیئر ؟” ہم نے چونک پوچھا “سر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہی دو رینکس میں سے کوئی رہا ہوگا ؟” “سویلین مہمانوں کو مرعوب کرنے کے لئے گھروں پر یہ حرکتیں یہی دونوں کرتے ہیں۔ جنرلز اپنے گھر کو آفیسر میس نہیں بناتے” 

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top