ربیع الاول میں قرآن کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت

[urdu]

ربیع الاول میں قرآن کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت

افتخار حسین

وطن عزیز میں ربیع الاول کی مبارک ساعتوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ہر مسلمان نبی کریم   ﷺ رحمت العالمین کی محبت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ربیع الاول کا مہینہ بھی دہشت گردوں سے محفوظ نہیں ہے اوروہ اکثر میلا د کے جلسوں اور محفلوں کونشانہ بناتے ہیں۔گزشتہ ربیع الاول میں راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں میں میلاد کی ایک کی ایک تقریب میں خودکش حملہ کیا گیا ۔       10 جنوری کو ہونے والے اس انسانیت سوز حملے میں 8 شہری شہید اور 16 زخمی ہوگئے۔یہ دہشت گردوں کی گمراہی کا نکتہ ِ عروج ہے کہ وہ مسلمانوں کو شیعہ اور سُنی میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اب سُنی مسلمانوں کو بھی دیو بندی اور بریلوی کے مسائل میں الجھا کر فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دے رہے ہیں ۔وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فروغ دیا جا تا ہے۔اسلام اور پاکستان کی دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ جنگ اور مذہبی تشدد کی آگ بھڑکا رہی ہیں اور ہر مذہبی تہوار کے قریب آتے ہی ان کی شر پسندی ہر حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تا کہ پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم کیا جاسکے۔یوں تو تخریب کاری کی اس مہم کی سرپرستی دشمن ممالک کے خفیہ ادارے کررہے ہیں تا ہم القاعدہ ، داعش ،تحریک طالبان ، لشکر ِ جھنگوی اور ان کے مختلف دھڑے ہی بنیادی طور پر اسے سرانجام دے رہے ہیں۔القاعدہ اور داعش پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کو فرقہ واریت اور اندرانی خلفشار کا نشانہ بنا چکے ہیں ۔اب یہ انتہا پسند گروہ پاکستان کو بھی اسی صورتِ حال سے دو چار کرنا چاہتے ہیں۔

         اسلام میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی کوئی گنجائش نہیں اور قرآن مجید کی متعدد آیا ت ایسی روش کی مذمت کرتی ہیں۔لہذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ، داعش اور طالبان کی جہالت ان کے فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرت پر مبنی نظریات کا باعث ہیں۔یہاں ہم قرآنی آیات کی روشنی میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی اسلام میں نا پسندیدگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔سورۃ البقرہ کی آیت 256 میں اللہ کا ارشاد ہے کہ “دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور ہدایت گمراہی سےواضح ہوچکی ہے۔”یہ آیت ہمیں بڑا واضح حکم دیتی ہے کہ اسلام میں دینی معاملات میں جبر اور زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 255 کو ہم آیت الکرسی کے طور پر جانتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات ،صفات اور افعال کا عظیم الشان بیان ہےجو ہر مسلمان کو دل سے عزیز ہے۔اللہ کی عظمت اور جلال کے بیا ن کے ساتھ اس حکم کا آنا یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ خود انسانوں پر دین کے معاملے میں جبر نہیں کرتا تو کسی انسان کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسا طرزِ عمل اختیار کرے ۔چنانچہ سورۃ یونس کی آیت 99 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے “اگر آپ ﷺ کا پروردگار چاہتا توزمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے۔ تو کیا آپﷺ لوگوں پر سختی کرناچاہیں گے یہاں تک وہ ایمان لے آئیں”۔اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحان و تعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کو اسلام کی تبلیغ میں سختی برتنے سے منع کرنا ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔

         القاعدہ اور داعش نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے مراکز اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر بے دریغ حملے کر کے شدید فساد مچایا ہو ا ہے۔تخریب کاری کا یہ جنون بھی قرآن کے احکام سے متصادم ہے۔ سورۃ حج کی آیت 40 میں واضح کہا گیا ہے”اگر خدا انسانوں کو ایک کی طاقت کے ذریعے سے دوسرے سے نہ ہٹائے رکھے تو راہبو ں کی خانقاہیں،عیسائیوں کےگرجے، یہودیوں کےمعابد اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں اللہ کا بہت نام لیا جاتا ہے کب کی گرائی جاچکی ہوتیں”۔یہ آیت بہت واضح طور پر بیان کررہی ہے کہ اللہ کا یہ ہرگز منشا ءنہیں ہے کہ ان عبادت گاہوں اور مذہبی مراکز کو گرایا یا تباہ کیا جائے۔لہذا ،مسجدوں،                          امام بارگاہوں ،خانقاہوں اور مزارات پر حملے کرنا کسی بھی صورت میں جہاد نہیں ہو سکتا۔

         قرآن مجید میں مسلمانوں کو بار بار جتایا گیا ہے کہ وہ ایک امت ہیں اور انھیں فروہی مسائل میں الجھ کر فرقہ واریت کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔سورۃ المومنین کی آیت 52،53،54 میں ارشاد ہے کہ “اور تم ایک اُمت ہو اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرتے رہو۔مگرلوگ پھر بھی بٹ جاتے ہیں اور ہر فرقہ اس پر خوش رہتا ہے جو اس کے پا س ہے تو انھیں اِسی کشمکش میں چھوڑدو۔”یقیناً ہر مسلمان نبی کریم ﷺ کے قرب کا متمنی رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ فرقہ واریت ہمیں اس سعادت سے محروم کرسکتی ہے۔سورۃ انعام کی آیت 160 میں ارشاد ہے” جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا اور فرقہ ،فرقہ ہو گئے آپؐ کا اُ ن سے کوئی تعلق نہیں۔اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انھیں جتا دے گا جووہ کرتے رہتے ہیں”۔یہ آیت بہت واضح طور پر بتاتی ہے کہ فرقوں میں بٹ جانے والے مسلمان نبی کریم ﷺ کی شفقت سے محروم رہ جائیں گے”۔

         اسی طرح قرآن کی بہت سی آیتوں میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا ہے اور فرقہ واریت کو مسلمانوں کی قوت میں کمزوری کا باعث بتایا گیا ہے۔سورۃ العمران کی آیت 103 میں فرمانِ الہی ہے” اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور     فرقہ فرقہ مت ہونا”۔ سورۃ العمران کی آیت 200 میں اللہ کا حکم ہے” اے ایمان والو،ثابت قدم اور مضبوط رہو، اور ایک جماعت کی صورت اکھٹے رہو او رخدا سے ڈرتے رہو تا کہ تم فلاح پا جاؤ”۔سورۃ انفال کی آیت 46 میں اللہ فرماتے ہیں” اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو مت ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل کمزور پڑ جائیں اور تمہاری طاقت جاتی رہے”۔

         ان آیات کی روشنی میں اچھی طرح سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلا م میں فرقہ واریت ،مذہبی انتہا پسندی اور منافرت کی ہرگز گنجائش نہیں۔لہذا عوام کو ہر قسم کے گروہ سے اجتناب کرنا چاہیے جوا سلام کے نام میں جبر اور تشددکرنے کے مرتکب ہوں۔   القاعدہ ،داعش اور طالبان اپنی جہالت کے سبب سے قرآن کی محض جہاد سے متعلق آیت کی غلط تشریح پیش کرتے ہیں اور یہ گروہ قرآن کی مکمل تعلیمات سے آگاہی نہیں رکھتے۔سورۃ الحجرات کی آیت 91،92 میں اللہ کا فرمان ہے۔”اور جنھوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا آپ ﷺ کے پروردگار کی قسم ، ہم ان سب کاضرور مواخذہ کریں گے”۔یقیناً یہ دہشت گرد اور انتہا پسند گروہ ایسے ہی انجام کے مستحق ٹھہریں گے۔ ہمیں اس انجام سے بچنے کے لیے ان گروہوں کو مکمل طور پر رد کردینا چاہیے۔

         سورۃ الکافرون سے بڑھ کر فرقہ وارنہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پر کوئی سبق نہیں ہو سکتا۔سورۃ الکافرون میں ارشادِ     باری تعالیٰ ہے “آپ ﷺ فرما دیجیے کہ” اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا تم جس کی عبادت کرتے ہو۔میں جس کی عبادت کرتا ہوں تم اس کی عبادت نہیں کرتے۔میں اس کی ہرگز عبادت نہیں کروں گا جس کی عبادت تم کرتے ہو۔تم اس کی عبادت نہیں کرو گےجس کی عبادت میں کرتا ہوں۔تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین”۔اس سورۃ مبارکہ کا پیغام بڑا واضح اور پر زور ہے۔ مسلمانوں کو دیگر فرقوں یا مذاہب کی عبادت اور ان کی عبادت گاہوں میں ہرگز مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔یہی ہمارے دین کا درس ہے اور یہی انسانیت کی معراج ہے۔لہذامساجد کے اماموں اور خطیبوں کو چاہیے کہ وہ ربیع الاول میں قرآنِ مجید کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کو عام کریں ۔عوام الناس خود بھی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے نفرت انگیز تقریریں کرنے والے انتہا پسند رہنماؤں اور ان کے کارندوں کی منفی سرگرمیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر مطلع کریں تا کہ دہشت گردی کے واقعا ت کو ہونے سے روکا جاسکے ۔ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کریم کے اخوت کے نظریات اور امن پسندی کو معاشرے میں عام کرے ۔

[/urdu]

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top