عید ین پر حملے ،دہشت گردوں کی گمراہی اورمنفی مذہبی نظریات

imambargah

عید ین پر حملے ،دہشت گردوں کی گمراہی اورمنفی مذہبی نظریات

افتخار حسین

اللہ تعالی نے عید الا ضحیٰ اور عید الفطر مسلمانوں کو تحفہ کے طور پرعطا کی ہیں جو اُنھیں صبرو تحمل کے ساتھ خدا کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے اجر کے طور پر اسی دنیا میں ملتی ہیں ۔ اس لیے عیدین پر ہرمسلمان کی خوشیاں قابل دید ہوتی ہیں لیکن پاکستان دشمن سفاک دہشت گردمعصوم اور نہتے شہریوں کی عید کو بھی غم و سوگواری میں بدل دیتے ہیں اور دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے بہت سے گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے ۔ دہشت گرد ایک عرصے سے اپنی ظالمانہ کاروائیوں سے معصوم لوگوں کو اپنی بر بریت کا نشانہ بناتے رہےہیں لیکن کسی بھی خاص تہوار یا دن کے موقع پر ان ظالموں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں کےذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں۔

القاعدہ،طالبان اور داعش اور ان سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان میں ہی عید کی خوشیاں نہیں اجاڑرہے بلکہ انھوں نے افغانستان ،عراق اور شام میں بھی عیدین کے موقع پر یہ ظلم و بربریت جاری رکھاہواہے۔یہاں ہم پاکستان میں عیدین کے موقع پر ہونے والے کچھ دہشت گرد حملوں کی تفصیلات بیان کرتے ہیں تا کہ قارئین دہشت گردوں کی بر بریت سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر اکتوبر2013 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں اس وقت خود کش حملہ کیا گیا جب ایک     صوبائی وزیر لوگوں سے عید مل رہے تھے۔اس حملے میں 8 لوگ شہید اور 30زخمی ہو گئے تھے۔ عید الاضحیٰ کے ساتھ ساتھ دہشت گردعید الفطر کے پرُمسرت موقع پر بھی لوگوں کی خوشیوں کا خون کرتے رہے ہیں ۔ اگست 2013 میں کوئٹہ میں عیدالفطر کی نماز کے اجتماع پر حملہ کیا گیا ۔اسلحہ بردارچار دہشت گردوں نے فائرنگ کر کےاس وقت9 افراد کو شہید اور 10 کو زخمی کردیا جب وہ نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے گھروں کی طرف رخصت ہو رہے تھے تا کہ اپنے عزیزواقارب سے عید مل سکیں۔اگست 2011 کو کوئٹہ میں گلستان روڈ پر مریدآباد کے علاقے میں عید الفطر کا اجتماع خودکش حملے کا نشانہ بنا۔اس حملے میں 11 اشخاص شہید اور 22 زخمی ہو گئے تھے۔اسی طرح دسمبر 2007 میں عید الاضحیٰ کے موقع پر چارسدہ میں نمازِعید کے اجتماع پر خود کش حملہ کیا گیا ۔اس حملے میں 50 نمازی شہید ہو گئے اور 100 سے زیادہ دشدید زخمی ہوئے۔

ظلم اور بربریت کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہو سکتی ہے ۔یہ کہاں کے مسلمان ہیں اور کس مذہب کی بات کرتے ہیں؟ کس مذہب نے انھیں عیدین کے موقع پر اس بے دردی سے معصوم لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی اجازت دی ہے؟ اسلام تو اپنی تعلیمات اورافکار و نظریات کے لحاظ سے امن و سلامتی، خیرو عافیت اور آمان کادین ہے۔ اللہ اور اسکے رسولؐ کے نزدیک مسلمان اور مومن صرف وہی شخص ہے جو تمام انسانیت کے لئے پیکرِ امن سلامتی ہو۔ اس لیے    انتہا پسند دہشت گرد معصوم لوگوں کا خون بہانے والے بظاہر کتنے ہی اسلام کے علم بردار کیوں نہ بنتے پھر یں وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں۔ اسلام تو کیا اُن کا انسانیت سے بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کا ہرعمل اسلام کے برعکس ہے۔

عیدین جیسے مقدس موقعوں پر دہشت گردی کرنے کے بعد خود کو مسلمان گرداننا صریحاً منافقت ہے۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدرو قیمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مذہب کی تعلیمات کی روح سے ایک بے گناہ انسان خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اس کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔لہذا خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والے شدید عذاب الہٰی کے حقدار ٹھہریں گے ۔

دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہماری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ان انتہا پسند دہشت گردوں ، علیحدگی پسندتحریکوں اور فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں کو ملک دشمن عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے جس سے نمٹنے کے لیےنیشنل ایکشن پلان کی صورت میں ایک مربوط حکمت عملی قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل دی جاچکی ہے جس کے تحت ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں تا کہ ملک میں امن وامان بحال کیا جا سکےاور ہر شہری   کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔

القاعدہ، طالبان اور داعش کے دوغلے اور منافقت پر مبنی نظریات اسی عمل سے ظاہر ہو جاتے ہیں کہ یہ   دہشت گرد گروہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی پاکستانی مسلمانوں پر حملے جاری رکھیں گے اور اپنے مالی منافع کے لیے قربانی کی کھالیں اکھٹی کرنے کی مہم بھی چلائیں گے۔عوام کو جہاں عیدالاضحی کے موقع پر دہشت گردوں کے حملوں سے بچنے کے لیے احتیاط برتنی چاہیے وہیں انھیں اس با ت کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ قربانی کی کھالیں مشکو ک مدارس کو نہ دیں جو ان دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ان کھالوں سے حاصل ہونے والے منافع سے یہ گروہ اپنی تنظیمیں چلا رہے ہیں اور خود کش جیکٹس اور بم بنا کر سفاکی سے معصوم لوگوں پر حملہ کرتے ہیں۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top