مختلف کالعدم تنظیموں کا آپسی الحاق ۔۔۔۔ دہشت گردوں کے تاریک مستقبل کا واضح ثبوت

مختلف کالعدم تنظیموں کا آپسی الحاق ۔۔۔۔ دہشت گردوں کے تاریک مستقبل کا واضح ثبوت

ایس اکبر

حال ہی میں کالعدم تنظیم لشکرِاسلام نے تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔اس کے علاوہ تحریک طالبان جماعت الاحرارکےترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اب                تحریک طالبان،لشکر اسلام اور جماعت الاحرارایک جماعت کے طور پر لڑیں گے۔تینوں کالعدم تنظیموں کے سربراہان نے ایک مشترکہ اجلا س میں فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف یہ تینوں گروہ متحد ہو کر جوابی کاروائی کریں گے۔کالعدم تنظیموں کا یہ فیصلہ ان ظالم دہشت گردوں کے خلاف کامیاب عسکری کاروائی ضرب عضب کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپسی اتفاق کی خبر منظرِعام پر آنے کے ساتھ ہی تینوں تنظیموں کے کارندے ایک دوسرے کے دست و گریباں ہو گئے جس کے نتیجے میں جماعت الاحرار کے دو اہم کمانڈر زشکیل احمد حقانی اور طارق علی جاں بحق ہو گئے جس ثابت ہوتا ہے کہ تنظیموں کے سربراہان نے بوکھلاہٹ میں اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے کارندوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ تاہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ بعد ازاں نا معلوم اسباب کی بناء پر جماعت الاحرار ہی کے سربراہ اور اس کے نائب نے سیاسی شورٰی کو اپنے استعفٰے پیش کر دیئے ان کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ الحاق کے فیصلے کے باوجود تینوں تنظیموں کے مابین اختلاف مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ مزید بڑھ گئے جس کی وجہ سے یہ تنظیمیں مزید زبوں حالی کا شکار ہو گئی ہیں۔

عمر خالد خراسانی اور اس کے کارندوں نے کچھ عرصہ قبل جماعت الاحرار کے نام سے ایک نیا گروہ بنایا        تھا ۔مہمند ایجنسی میں جماعت الاحرار کے بننے کی وجہ سے تحریک طالبان اپنا اثرورسوخ مکمل طور پر کھو چکی تھی جبکہ اس کے باقی ماندہ ساتھی افغانستان بھاگ گئے تھے۔خیبر ایجنسی میں اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کے لیے اب طالبان کے امیر فضل اللہ نے وہاں سرگرم گروہ لشکرِاسلام کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی ٹی پی مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے۔

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ ظلم ہمیشہ مٹنے کے لیے ہوتا ہے ۔تحریک طالبان نے پاکستان میں جہاد کی آڑ میں جو دہشت گردی اور ستم ظریفی رواں رکھی ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔لیکن پاک فوج کی انتھک محنت اور ان کےخلاف کامیاب عسکری کاروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ درحقیقت تحریک طالبان صرف اورصرف ایک جھوٹ پر قائم تنظیم تھی جس کے قول و فعل میں واضح تضاد تھا۔پیسے اوراقتدار کے لالچ میں ان ظالموں نے پاکستانی عوام کو شدید پریشانی سے دوچار رکھا ہے۔جماعت الاحرار تحریک طالبان کا ہی ایک دھڑا ہے جبکہ تحریک طالبان نے اس سے قبل بھی کئی بار لشکرِاسلام سے الحاق کا اعلان کر چکی ہے ۔لیکن ان تنظیموں کے کارندے اپنے آقاوں سے ناخوش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِن تنظیموں کو اب کارندوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ان گروہوں کے بہت سے کارندے انھیں پہلے ہی چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔

تحریک طالبان شدید اندرونی انتشار کا شکار ہے یہ انتشار بہت عرصے سے اِس تنظیم میں موجود تھا ۔ 2013 میں طالبان کے پرانے امیر حکیم اللہ محسود کے جا ں بحق ہونے کے بعد یہ جنگ کھل کر سامنے آگئی جب مختلف کمانڈرز نے اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر حملے کروانے سےبھی گریز نہیں کیا۔ تحریک طالبان میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور اندرونی انتشار نہایت خوش آئند پیش رفت اور ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔ اِس تنظیم کے تمام کمانڈر ہی اقتدار پسند اور پیسے کے لالچی ہیں جن کی غیر اسلامی اور مفاد پرست کاروائیوں کی بدولت تحریک طالبان آہستہ آہستہ مایوسی ،تقسیم اور انتشار کا شکار ہو گئی مزید یہ کہ طالبان کمانڈرز کو اپنے کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہےکیونکہ اِن کمانڈروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنگی کاروائیوں کے بجائے عیش و عشرت اور دیگر غیراسلامی سر گرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ پھر حکومت نے جب امن مذاکرات کی پیشکش کی تو تب بھی یہ گروہ مختلف دھڑوں میں بٹ گیا۔کچھ کا خیال تھا کہ امن مذاکرات کرنے چاہئیں جبکہ کچھ اِن مذاکرات کے سخت خلاف تھے۔اِن دہشت گردوں کی یہی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوئے پاک فوج نے اِن کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا۔ اِن کے خلاف پاک فوج کی جانب سے شروع کیے جانےوالاآپریشن ضربِ عضب ایک آخری چوٹ ثابت ہوا اور اب کامیاب عسکری کاروائی،دہشت گروہ کے آپسی اختلافات اور قبائلی عوام کی ان سے بڑھتی ہوئی نفرت سے اس گروہ کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ تمام دہشت گرد پاکستان فوج کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کی وجہ سے شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اِسی بوکھلاہٹ میں وہ کبھی’ دَاعش’ جیسی بدنام زمانہ تنظیم سے الحاق کا اعلان کر رہے ہیں اور کبھی آپس میں مختلف کالعدم تنظیمیں گٹھ جوڑ کر رہی ہیں تاکہ اِن دہشت گرد تنظیموں کی بچی کچی ساکھ اور برہم کو قائم رکھا جا سکے۔ مزید برآں کہ پاک فوج کی انتھک کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت تحریک طالبان اب ایک منظم تنظیم نہیں رہی قبائلی عوام کے مذہبی لگاؤکو جس طرح ان ظالموں نے زنگ آلود کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔وہاں کی معصوم اور امن پسند عوام کو ان ظالموں نے اسلام کے نام پر جھوٹے پراپیگنڈے کے زیرِاثر رکھا اور انہی کی حمایت کے بل بوتے پر وہ جہاد کی آڑ میں پاک وطن کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے۔

دہشت گردی کی جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان کی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں نے دیں ہیں ۔یہ ان کی کئی سالوں کی محنت کا ثمر ہے کہ یہ تنظیم کمزور پڑگئی ہے۔انشااللہ اِس ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائےگا اور ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ان تمام حالات و واقعات سے بہت مثبت اثرات مرتب ہونگے اور انشااللہ ایک وقت آئےگا جب تحریکِ طالبان جیسے دہشت گرد گروہ بالکل نیست و نابود ہو جائیں گے۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top