طالبان سے مذاکرات ۔۔۔ مولانا سمیع الحق کی پیشکش

نغمہ حبیب

Wednesday, September 03

ملکی حالات چاہے معاشی ہوں یا معاشرتی کسی طرح بھی اچھے نہیں اور اِن ساری خرابیوں کی وجہ کم از کم پچھلے بارہ تیرہ سال سے امن و امان کی خراب صورت حال ہے۔ کوئی دن ایسا 412456-talibanreuters-1343142512-334-640x480نہیں گزرتا جب دھماکہ ، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ حا صل کرنے کے لیے دہشت پھیلا نا نہ ہو۔ اس بدامنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں زیادہ ترکی ذمہ داری طالبان کی طرف سے قبول کرلی جاتی ہے اور ایک ایسا ترجمان بیان جاری کر دیتا ہے جسے کبھی کسی نے دیکھا نہیں ہواہوتا بلکہ اُس کی آواز بھی نہیں سنی ہوئی ہوتی اب اس ترجمان کی حقیقت کیا ہے یہ یا تو اللہ جا نتا ہے یا کچھ’’ پہنچے ہوئے لوگ ‘‘ لیکن آخر یہ طالبان کیسے ساری دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر یہ سب کچھ کر لیتے ہیں۔ بہر حال جو بھی ہو طالبان نے ملک کا کوئی کونا ایسا نہیں چھوڑا جہاں خون نہیں بہایا گیا ہواور اس میں عورتوں ،مردوں، بوڑھوں، بچوں بلکہ شیر خوار بچوں کی تخصیص بھی نہیں کی گئی۔ ہماری فوج عرصہ دراز سے ان سے ایک طویل جنگ میں مصروف ہے اور ہزاروں فوجی اس جنگ کی نظر ہو چکے ہیں ۔مختلف اوقات میں حکومتوں نے ان سے مذاکرات کرنے کی بھی کوشش کی اور حکومتیں بھی تبدیل ہوئیں لیکن تا حال امن کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ۔

موجود ہ حکومت نے بھی طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دیا اور پیشکش بھی کی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بڑی بڑی جنگوں کا فیصلہ بھی آخر کارمذاکرات نے ہی کیا ہے اور سخت ترین دشمنوں نے بھی مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے مطالبات تسلیم کئے ہیں پھریہاں تو ہمارے اپنے ہی ملک میں دو فریق آمنے سامنے ہیں۔ طالبان نے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو جس طرح اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اس میں کوئی شخص اپنی زندگی محفوظ نہیں سمجھتا ،نہ مسجد محفوظ ہے، نہ نماز جنازہ ، نہ سکول، نہ شاہراہ ۔ہمارے فوجی اور پولیس جوانوں پر حملے اور شہریوں کا قتل عام سب کچھ چلتا ہی چلا جا رہا ہے لیکن آخر اس صورت حال کو ختم تو کرنا ہے اور خوش آئند بات ہے کہ اس مقصد کے لیے مولانا سمیع الحق نے اپنی خدمات پیش کی ہیں اور یہ ایک بہت اہم پیشکش ہے کیونکہ طالبان کے رہنماؤں کی اکثریت مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبدالحق کے مدرسے سے پڑھے ہوئے ہیں اور وہ مولانا سمیع الحق کو اپنا استاد مانتے ہیں، یوں یہ عین ممکن ہے کہ مولانا اس معاملے میں کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکیں اور طالبان کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ اگر چہ یہ پیشکش بعد از خرابی بسیار کے ہے لیکن اس کے اگر اب بھی مثبت نتائج بر آمد ہو سکیں اور طالبان ہتھیار ڈال دیں جس کے لیے مولانا نے اُمید ظاہر کی ہے کہ وہ ایسا کر سکیں گے تو اچھی بات ہے ۔

اگر حکومت اور فوج دونوں کی یہ خواہش ہے کہ ملک اس عذاب سے باہر نکلے تو انہیں اس پیشکش سے فوری فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ وہ عنا صر جو اس کو شش کو سبوتاژ کرکے اسے ناکام بنانا چاہتے ہیں وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکیں کیونکہ ظاہر ہے جو قوتیں ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتی وہ مذاکرات کی ناکامی بلکہ نہ ہونے کے لیے سر دھڑکی بازی لگا دیں گے تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے، اسلحہ خریدا جاتا رہے اور استعمال ہوتا رہے، پاکستان کمزور ہو اور علاقے پر ان کی اجارہ داری قائم ہو سکے۔ وہ پاکستان کو اس حد تک کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ اسے ختم ہونے پر مجبور کر دیا جائے لہٰذا اِن طاقتوں کو اِن کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دینا ہوگا۔ مولانا سمیع الحق ہوں، فضل الرحمن ہوں، منورحسن ہوں یا دائیں یا بائیں بازو کا کوئی بھی لیڈر ، سب کو آگے بڑھنا ہوگا اور ہر صورت اس مسئلے کو ختم کرنا ہوگا اور اس کے لیے صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا نہ کہ کسی اور کے ،اور ذاتی مفادات کو بھی بالائے طاق رکھنا ہوگا تاکہ ہم حقیقتا اس مسئلے کو حل کر سکیں اور نہ صرف ملک میں امن قائم کرنا ہوگا بلکہ اس کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈالنا ہوگا کیونکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس میں سلامتی بھی ہے اور ترقی بھی اور اگر مولانا سمیع الحق ایسا کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس موقعے کا فائدہ اٹھا نا ہی ہوگا۔

 

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top