افواجِ پاکستان کا عزم ۔۔۔دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ

army shuda

افواجِ پاکستان کا عزم ۔۔۔دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ

 ایس اکبر

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبرون اور خیبر ٹو کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے ملک بھر گزشتہ   سہ ماہی اکتوبرتادسمبر 2014کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی جنوری تا مارچ2015 کے دوران پر تشدد

واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اب تک سال 2015 کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے 102 واقعات میں تقریباً 1922 افراد جاں بحق اور 307 افراد زخمی ہوئے۔بلوچستان میں شدت پسندی کے 115 واقعات ہوئےجن میں 92 افراد جاں بحق جبکہ 84 زخمی   ہوئے ۔ صوبہ سندھ میں عسکریت پسندی کے 31 واقعات ہوئے جن میں 95افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے، دفاعی تجزیہ نگاروں سے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس صوبے میں امن عامہ کی صورتحال مزیدبہترہو جائےگی۔

دہشت گردوں کے خلاف کامیاب عسکری کاروائی کی بدولت دہشت گردی کی کاروائیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 2009میں ایک ماہ کے دوران تقریباً6سے 7       خود کش حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ ایک دن میں دہشت گردی کی 32 کاروائیاں بھی دیکھنے میں آئیں کامیاب عسکری کاروائی کی بدولت دہشت گردی کے یہ واقعات پہلی تعداد کی نسبت اب صرف 10 فیصد رہ گئے ہیں۔ خودکش حملے ایک مہینے میں اوسطً ایک بار ہو رہے ہیں۔دہشت گردی کی کاروائیوں میں اس واضح کمی لانے کا سہرا ہماری مسلح افواج کو جاتا ہے جو کامیابی سے دہشت گردوں کا صفایہ کرنے کے لیے برسر پیکار ہیں ۔مہمند ایجنسی ، شمالی اورجنوبی وزیرستان میں مکمل طور پر ناکامی کے بعد کالعدم تحریکِ طالبان کے لیے خیبر ایجنسی ہی ایک محفوظ مقام بچا تھا جہاں تحریک طالبان اپنے آپ کو پھر سے مستحکم کر سکتی تھی لیکن خیبر ایجنسی میں پاک فوج کی کامیاب عسکری کاروائی نے ان کے اس خواب کو بھی ملیا میٹ کردیا۔

مسلح افواج نےتقریباً34000مقامی لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ اور باڑہ سے لشکرِ اسلام کے خلاف باقاعدہ کاروائی کا آغاز کیا ۔ لشکرِ اسلام سے اظہار یکجہتی دکھانے کے لیے ٹی ٹی پی کے امیر ملا فضل اللہ کا ایک پیغام بھی  منظر ِعام پر آیا جس میں اس نے اس گروپ کا مکمل ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی تھی اس کے علاوہ حال ہی میں منہدم ہوتے دہشت گردوں کے گروہ نے آپسی الحاق کا اعلان کیا ہے جس میں ٹی ٹی پی،جماعت الاحرار اور لشکرِاسلام شامل ہیں ۔الحاق کے اعلان سے بہت سے دہشت گرد مایوس اور ناخوش نظر آئے جس کی وجہ سے اُن میں آپسی جھڑپیں بھی ہوئیں اور اس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے کئی دہشت گرد مارے گئے۔اس اظہار یکجہتی اور الحاق کا مقصد صرف اور صرف یہ باور کروانا ہے کہ تحریک طالبان مختلف علاقوں میں اب بھی اپنا اثرورسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ یہ تنظیم مکمل طورپر ٹوٹ پھوٹ چکی ہے جو   ہماری بہادر اور غیور فوج کی حکمت عملی،دور اندیشی اور قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کامیابی سے جاری و ساری ہے یہاں تک کہ دہشت گردوں نے فوج کے آگے ہتھیار پھینکنا شروع کردیئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاک فوج کے دستے دہشتگردوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ پاک فوج        دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے ٹھکانوں اور علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرر ہی ہے اور            دہشت گردوں کے فرار ہونے کی ہر کوشش کو ناکام بنا رہی ہے۔عساکرِ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں صرف یہی نہیں بلکہ آپریشن ضربِ عضب کی بر وقت تکمیل کے ساتھ ساتھ فوج بحالی اور تعمیرِ نو کی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر جامع منصوبے بنا رہی ہے ۔عسکری کاروائی کی صورت میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی اور بحالی بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا جسے افواجِ پاکستان نے بڑی کامیابی سے مکمل کیا ہے۔آج ہمارے غیور بھائی واپس اپنے علاقوں میں جا کر پرامن طریقے سے زندگی گزارنے میں مصروف ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں میں ایک یہ غلط فہمی بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ یمن کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لیےسعودی عرب نے پاکستان سے فوجی مدد طلب کی ہے جس کی وجہ سے اب پاک فوج قبائلی علاقوں میں جاری جنگ ادھوری چھوڑ کر سعودی عرب کی مدد پر لبیک کہے گی۔لیکن یہ ان ظالم دہشت گردوں کی خام خیالی ہے۔افواجِ پاکستان نے عزم کیا ہے کہ وہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔پاک سر زمین پر گزشتہ بارہ سال سے جاری دہشت گردی کی جنگ میں افواجِ پاکستان نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ جس میں دس ہزار کے قریب جوان اور افسران دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ہر طرح کےمشکل حالات میں ہماری افواج نے ملک کی سلامتی اور تحفظ کا فریضہ پوری جانفشانی اور بہادری سے نبھایاہے۔انہی بیش بہا قربانیوں کی بدولت عسکری قیادتوں کے سر فخر سے بلند ہیں اور پاکستانی عوام کو ان جوان سپوتوں پر فخر ہے کہ انھوں نے قوم کے اچھے مستقبل اور وطنِ عزیز کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ یقینًا ارضِ وطن پر جانیں نثار کرنے کے جذبے سے سر شار افواجِ پاکستان پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہے اور رہے گااور وہ دن دور نہیں جب ہماری افواج ان دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرکے اس ارضِ پاک کو امن کا گہوارہ بنا دیں گی۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top