امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا دورہ ِ اسلام آباد

                           سیّد ناصررضا کاظمیjohn kerry
گز شتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور سینٹ کام کے چیف جنرل آسٹن نے اسلام آباد کا سرکاری دورہ کیا جان کیری نے وزیر اعظم پاکستان اور خارجہ امور کے اعلیٰ سطحی حکام سے ملاقاتیں کی جان کیری اور جنرل آسٹن نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں جنرل راحیل سے خصوصی تبادلہ ٗ ِ خیال کیا گیا مسٹر کیری کی جانب سے اِس امر پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جاری دوٹوک عسکری جنگ میں پاکستانی فوج کی حمایت جاری رکھے گا اس کو مزید وسعت دے گا اُنہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیزکی واپسی کے لیے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر دینے کا بھی اعلان کیا اُن کا یہ کہنا کہ پاکستان کا خطے کی سلامتی میں بہت اہم کردار ہے امریکا پاکستان کے ساتھ دفاعی سمیت تمام شعبوں میں مکمل تعاون جاری رکھے گاامریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف کے ساتھ اپنی ملاقات میں یہ عندیہ بھی دیا کہ ماضی کی بہ نسبت امریکا پاکستان تعلقات اب بے اعتمادی سے نہیں بلکہ بدشگونی سے پاک ہوکر آگے بڑھیں گے پاک امریکا تعلقات کی جب بات کی جائے گی کچھ کہیں گے امریکا پاکستان سے مخلص کبھی نہیں ہوا کچھ اِس رائے کا بلا جھجک اظہار کریں گے کہ پاکستان نے بھی تو امریکی دوستی کو ہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھا ہے لیکن اعلیٰ سطحی سیاسی وسفارتی شکو ک وشبہات اور بے اعتمادی کے ساتھ ’پاک امریکا دوستی‘کا یہ سفارتی سفر کئی بنیادی تضادات کے باوجود تاحال جاری ہے نہ امریکا نے پاکستان کو چھوڑا اور پاکستان نے نہ امریکا کو ’گڈ بائی‘ کہنے کی کوئی ضرورت محسوس کی‘ سفارتی امور میں بڑی طاقتوں کے رول سے کوئی انکار نہیں کرسکتا خصوصاً ’یونی پولر‘ پاور (امریکا) کی شکل میں وجود میں آنے کے بعد شعوری طور پر ہمیں اپنی خارجی اور اندرونی تنقیدی جائزہ لے کر ایک سچ تو ضرور بولنا پڑے گا چاہے یہ سچ کسی کو کتنا ہی تلخ، کڑوا اور زہریلا کیوں نہ لگے وہ یہ ہے کہ ’ہمارا اپنا اقتصادی وجود کتنے’مضبوط‘ انفراسٹریکچر پر قائم ہے؟ بنیادی ضروریات کی ہر قسم کی سہولیا ت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے علم میں ہم کتنے خود کفیل ہیں؟ شائد کسی کو علم ہو امریکا کے پاکستان کے تعلقات کے دور سے تاحال ہم اپنی اہم بنیادی دفاعی آلات و ضروریات کا غالباً 70-75%  جنگی ہتھیاروں کے پُرزوں کے حصول کی صورت میں امریکا پر انحصار کرتے چلے آئے ہیں،کبھی امریکی عوام سے پاکستانی عوام ناراض ہو ئے یہی حال دوسری جانب یعنی (امریکی عوام) کابھی رہا ماضی کے تلخ تاریخی حوالوں کو کھنگالنے کی بجا ئے پیچھے دیکھنے کی کیا ضرور ت؟ کیوں نہ ہم آگے بڑھیں، کچھ حقائق امریکی تسلیم کریں اور عالمی سفارتی خدوخال کی تزویراتی سچائی سے نظریں چرانے کی بجائے بحیثیت ِ پاکستانی قوم کے ہر ایک فرد میں ’اجتماعی دانش‘ “Collectivewisdom”کی مخفی خوبیوں کے موجود ہونے کا انکار نہ کیا جائے ’اجتماعی دانش‘ ہوتی کیا ہے؟ جو کسی فرد کو کسی لمحے یکدم بے خوف بنادیتی ہے، اگر یہ خوبی ا فراد یا کسی اہم حساس قومی ذمہ داری کے عہدے پر فائز کسی شخصیت میں پائی جائے جو‘ باصلاحیت ہو‘ بے نظیر قائدانہ بصیرتوں کا حامل ہو‘اُس فرد یا اُس شخصیت کی یہ بصیرتیں ’گائیڈڈ میزائل‘ سے مشابہہ ہوں، یعنی اُس کی منظم قائدانہ ’بصیرتیں‘ ساکت وجامد حالات میں بھی اپنے مقررہ ’ہدف‘ تک پہنچنے کے لئے تیار رہتی ہوں، ممتاز شخصیات کی کسی دور کی تواریخ اُٹھالیں ایسی نابغہ شخصیات کبھی کبھی ابھرتی ہیں قوموں کے لئے مبارک ثابت ہوتی ہیں، پاک امریکا تعلقات کی زمان ومکاں کی حسیّات کے بارے میں کچھ کہنے سے قبل ہمیں یہ کہنے دیجئے اور معاف فرما ئیے، کہ’د نیا میں سب سے مشکل ترین کام ’سچ‘ بولنا اور ’سچ‘ سننا ہے‘ پاکستانی عوام کے ساتھ آج تک کسی سیاسی وفوجی قائد نے اہل ِ وطن کو کبھی ’سچ‘ نہیں بتایا ہمیشہ گول مول لگی لپٹی فریب زدہ باتیں کرکے اقتدار کے مزے وہ لوٹتے رہے ہیں ماضی میں بائیں بازو والے امریکا مخالف ہوا کرتے تھے تو دائیں بازو والے امریکا کے طرفدار‘ آج عجب تماشا لگا ہوا ہے بائیں بازو والے امریکا کے ساتھ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے پُر زور حامی ہیں، جبکہ دائیں بازو والے دہشت گردوں کے ہمدرد یہ کہتے ہیں کہ ’یہ امریکا کی جنگ ہے پاکستان کی جنگ نہیں‘ ہر ایک قسم کی بُرائی کا الزام امریکا کے سر پھوپنے والے چاہے دینی قائد ہوں یا سیاسی وفوجی حکمران‘ سب نے عوام سے ہمیشہ جھوٹ ہی بو لا ہے ا مریکی محکمہ ٗ ِ دفاع ’پینٹاگان‘ کی امریکی جمہوری طرز ِ حکمرانی میں ہمیشہ ’نمایاں‘ مرکزی اور امتیازی‘ حیثیت رہی  ہے بین السطور راقم نے جس ’اجتماعی دانش‘ یا ادارہ جاتی ہم خیالی کی خوبی کا اشارہ کیا اِس سے مراد پاک امریکا تعلقات میں وقتاً فوقتاً پڑنے والی رکاوٹوں کو امریکا نے دور نہیں کرنا تھا یہ ہمارا کام تھاہم کمزور اور ترقی پذیر ملکوں میں شمار ہوتے ہیں ہم نے امریکا کو مطمئن کر نا تھا گزشتہ65-66 برسوں سے ہم لینے والے اور وہ دینے والے‘ ہمیں اُن کی ’باتیں‘ سنی پڑتی ر ہیں کیاامریکا‘ مغرب‘ ورلڈ بنک اور فنڈنگ کے دیگر عالمی ادارے‘ سب امریکا کی وجہ سے ہماری طرف متوجہ ہوتے ہیں اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ’یہ غلامی اور آقا‘ والا کوئی امتیازی معاملہ ہے امریکا کو ہماری ضرورت ہے ہمیں امریکا کی‘ایسے میں اچانک اگر امریکا آج یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ’پاکستان حقیقتاً اور عملاً بدل گیا ہے دہشت گردی کے خلاف دل وجان ایک کرکے پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی قیمت پر اپنی مغربی سرحدوں ہی کیا منحصر‘ بلکہ جنونی دہشت گردوں سمیت اُن ’سہولت کاروں‘ کو اندرونی طور پر بھی جڑ سے ختم کرنے میں پوری طرح سے نیک نیت ہے،، پینٹگان میں شکوک کی جگہ اب دفاعی اعتبار کے ساتھ سفارتی اعتماد نے اپنی حکمت عملی اُنہیں دکھادی‘ واشنگٹن پوسٹ کا یہ کہنا کہ برسوں بعد پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے مغربی علاقے میں جنونی انتہا پسند وں کے خلاف بڑی عسکری کارروائی کی خود نگرانی کر کے دکھا دیا کہ وہ پاکستان کے اندر دہشتگردوں کے خلاف ایسی موثر اور جاندار فوجی آپریشن کرنے کی ہمت وجراّت رکھتے ہیں آپریشن ِ ضرب ِ عضب کی کامیابیوں سے امریکہ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے گزشتہ برس2014 کے نومبر کے پہلے ہفتے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے ایک سینئر لیفٹینینٹ جنرل جوزف اینڈرسن نے امریکی میڈیا کو جب یہ بتایا کہ پاکستانی علاقہ شمالی وزیر ستان میں عرصہ سے بیٹھے ا فغان مزاحمتی گروہ ’حقانی نیٹ و رک‘ اب ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، تو وہ حیران رہ گئے، کابل سے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اینڈرسن کا یہ کہنا تھا کہ حقانی نیٹ و رک میں متواتر توڑ پھوڑ کی ’بڑی وجہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوجی کارروائیاں ہیں پاکستانی فوج کے آپریشن کی وجہ سے ان (حقانی گروپ) کے لیے یہاں کابل میں کسی قسم کی دہشتگردی کرنا اب اتنا آسان نہیں رہا‘ جنرل اینڈرسن کے چنیدہ چنیدہ الفاظ سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل راحیل شریف اور اُن کی عسکری ٹیم کی ’اجتماعی دانش‘ نے پاک امریکا تعلقات کی سردمہری کو اب گرمجوشی میں تبدیل کردیا جیسا کہ اِس بار سب نے دیکھا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جب جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی جیف کے ہمراہ شہدا کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھائی تو اُن کے چہرے کے مطمئن تاثرات اُن سے چھپائے چھپ نہ سکے صاف معلوم ہورہا تھا کہ ’دونوں جانب    یہ احساس پایا جا نے لگا ہے اور یہ کبھی نہ بھولنے واالا ایک تاریخی لمحہ ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری قیادت دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سمیت اکھاڑ پھنکنے کے ا س اہم موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے عملی اقدامات کرنے کی ایک لگن ٹھان چکے ہیں۔

 

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top