فساد فی الارض پھیلانے والوں کو قربانی کی کھالیں دینا شرعاً جائز نہیں

taliban_reuters_terrorism in pakistan

فساد فی الارض پھیلانے والوں کو قربانی کی کھالیں دینا شرعاً جائز نہیں

عید الاضحی اسلامی تہوار وں میں سے ایک بڑا تہوار ہے ۔ جسے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان بھر پور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور پوری دنیاکے مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی میں 10ذوالحجہ کو کروڑوں جانور ذبح کر کے قربانی کرتے ہیں۔وطن عزیز میں بھی تمام اسلامی مسالک کے پیروکار سنت ابراہیمی کی تقلید کرتے ہوئے قیمتی جانوروں کی قربانیاں کرتے ہیں اور قربانی کے گوشت کا ایک تہائی حصہ غرباؤمساکین میں تقسیم کرتے ہیں جب کہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں مساجد، دینی مدارس اور خدمت خلق سر انجام دینے والے فلاحی اداروں کو دی جاتی    ہیں ۔ وطن عزیز میں قائم دینی مدارس اپنے نظام کو چلانے اور زیر تعلیم طلباءکی کفالت کے لئے قربانی کی کھالوں کو اپنی آمدن کا بڑا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں ۔ چونکہ دینی مدارس اسلام کی تعلیمات اور اسلام کے پیغام کو فروغ دینے کے اہم مراکز تصور کیےجاتےہیں اور ان دینی مدارس میں ہزاروں طلباءدینی علوم سے فیضیاب ہو کر دینی خدمات سر انجام دیتے ہیں اس لئے ان دینی مدارس کو قربانی کی کھالیں دینا کارثواب ہے ۔مگر بد قسمتی سے ان دینی مدارس میں سے کچھ نے افغان جہاد کے لئے جہادی تربیت کا سلسلہ شروع کیا تو جہادیوں نے اپنے ان ہم خیال اور ہم مسلک مدارس کو اپنی کمک کا بڑا ذریعہ بنا لیا ۔خصوصاً 11/9کے واقعہ کے بعد افغانستان پر امریکی قبضے کے خلاف لڑنے والے طالبان نے بھی پاکستان کے چند مدارس کے نگرانوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا تو ان دینی مدارس کا کردار مشکوک سمجھا جانے لگا ۔ جنونی انتہا پسندانہ نظریات کو پروان چڑھانے والے ان دینی مدارس کے نام نہاد مولوی حضرات نے پیسوں کے لالچ میں جنونی انتہا پرستی کو فروغ دیا اور یہ مخصوص مدارس دہشت گردوں کی آما جگا ہ اور پناہ گاہ بن گئے اور ان چند دینی مدارس کی منفی سر گرمیوں کی وجہ سے تمام دینی مدارس کا وقار مجروح ہوا جس کے خلاف دینی مدارس کی مرکزی تنظیمات نے بھی بھر پور احتجاج کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی نیٹ ورک سے مربوط چند مدارس کے مولوی حضرات کی وجہ سے دینی مدارس کے ملک گیر نظام کو قصور وار ٹھہرانے سے گریز کیا جائے اور ان مٹھی بھر مدارس کے علاوہ امن و سلامتی کا درس دینے والے مدارس کے لئے زکواة اور عطیات کے ساتھ ساتھ عید الاضحی کے موقعہ پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر کوئی پاپندی نہ لگائی جائے اور گنتی کے چند جنونی فرقہ پرست ملاؤں کے زیر انتظام مدارس کی غیر قانونی سر گرمیوں کی سزا امن و سلامتی کے مبلغ دینی اداروں کو نہ دی جائے جو کہ بالکل صیحح اور جائز مطالبہ ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیئے مگر ان امن پسند دینی مدارس کے مہتم حضرات اور مدارس کی مرکزی تنظیمات کے عہدیدران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جنونی انتہا پسندی کی    نرسریوں کا کردار ادا کرنے والے ان مدارس کی بھی خود نشاند ہی کریں جو دہشت گردی نیٹ ورک سے مربوط ہو کر غیر ملکی فنڈزبھی لیتے ہیں۔اس سلسلے میں گذشتہ 2سال کے دوران حکومت نے بھی کئی اقدامات کئے ہیں اور          نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت ملک بھر کے دینی مدارس کی رجسٹریشن کر کےان کے تمام کوائف کا ریکارڈ بھی مرتب کیا گیا ہے۔حکومتی اداروں اور ایجنسیوں نے دہشت گردی نیٹ ورک سے مربوط نام نہاد دینی مدارس کی نشاند ہی بھی کر دی ہے مگر بعض مصلحتوں کی وجہ سے ایسے نام نہاددینی اداروں کے نام مشتہر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے جو کہ غلط پالیسی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اداروں نے جن دینی مدارس کے جنونی انتہا پسند دہشت گردی    نیٹ ورک کے ساتھ و ابستگی کی تحقیق و تصدیق کر لی ہے ان تمام کے نام عید الاضحی سے قبل مشتہر کر دیئے جائیں تاکہ اس بار وہ عید الاضحی کے موقعہ پر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دیکر قربانی کی کھالیں جمع کر کے اپنے جنونی دہشت گردی نیٹ ورک کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔ بلاشبہ صیحح دینی مدارس اور اسلامی فلاحی اداروں کی مالی معاونت کرنا اسلامی فریضہ اور ایک اہم خدمت بھی ہے مگر نام نہادجہاد کے نام پر دہشت گردوں کی مدد کے لئے چندہ اکھٹا کرنا مذہبی تعلیم و تدریس کے لئے قائم دینی مدارس کے اپنے وقار کے بھی منافی ہے۔ کیو نکہ اسلام میں فسا د فی الارض پھلانے والوں کوسزاکا حقدار قرار دیا گیا ہے اس سلسلے میں قرآن مجید میں واضح احکامات ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس لئے مخیر حضرات پر لازم ہے کہ وہ عید قربان عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں کسی دینی مدرسے کو دینے سے پہلےاس مدرسہ کی جانچ پڑتال کر کے یہ تسلی کر لیں کہ ان سے قربانی کی کھالیں وصول کرنے والے مدرسہ کےمہتم کا دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے تعلق نہ ہو ۔عید الاضحی کے موقع پر سنت ابراہیمی کی پیروری میں جانوروں کی قربانیاں کرنے والے مسلمانوں کو سنت نبوی ﷺ پر عملی پیرا ہو کر قربانی کے جانوروں کی کھالیں ایسے دینی مدارس کو دینی چاہئیں جو صیحح معنوں میں اسلام کے امن و سلامتی کے پیغام کا درس دیکر مسلمانو ں کے تمام مکاتب میں و حدت ویکجہتی کا پرچار کرتے ہیں اور منافرت پھیلانے والے گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے        امربالمعروف ونہی عن المنکر کے الہی فرمان پر عمل پیراہوں ۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top