منہدم ہوتی تحریک طالبان اور اس کا تاریک مستقبل ۔ایک خوش آئند پیش رفت

منہدم ہوتی تحریک طالبان اور اس کا تاریک مستقبل ۔ایک خوش آئند پیش رفت

ایس اکبر

TTP

کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے تنظیمی ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔حال ہی میں اس گروپ کے ترجمان شاہداللہ شاہد کو برطرف کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا ترجمان محمد خراسانی منتخب کیا گیا ہے۔ محمد خراسانی کا اصل نام مفتی خالد ہے اور اس کا تعلق گلگگت بلتستا ن سے ہے ۔شاہداللہ شاہد اور ٹی ٹی پی کےمہمند،خیبر، کُرم ایجنسی ،پشاور اور ہنگو کے کمانڈوز نے بین الاقوامی دہشت گرد گروہ آئی ایس آئی ایس سے الحاق اور اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا اور اسی جرم کی پاداش میں اُسے اپنے عہدے سے برخاست کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان نے مہمند ایجنسی کے امیرعمر خالد خراسانی کی جگہ اب منصور محمد کو نیا امیر مقرر کر دیاہے۔ عمر خالد خراسانی اور اس کے کارندوں نے کچھ عرصہ قبل جماعت الاحرار کے نام سے ایک نیا گروہ بنایا تھا ۔مہمند ایجنسی میں جماعت الاحرار کے بننے کی وجہ سے تحریک طالبان اپنا اثرورسوخ مکمل طور پر کھو چکی ہے۔جبکہ اس کے باقی ماندہ ساتھی افغانستان بھاگ گئے ہیں۔ اس سے قبل پنجابی طالبان بھی با قاعدہ طور پر تحریک طالبان سے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہے۔خیبر ایجنسی میں اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کے لیے اب طالبان کے امیر ملا فضل اللہ نے وہاں سرگرم گروہ لشکرِاسلام کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی ٹی پی مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے۔

تحریک طالبان شدید اندرونی انتشار کا شکار ہے یہ انتشار بہت عرصے سے اِس تنظیم میں موجود تھا ۔ 2013 میں طالبان کے پرانے امیر حکیم اللہ محسود کے جا ں بحق ہونے کے بعد یہ جنگ کھل کر سامنے آگئی جب مختلف کمانڈرز نے اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر حملے کروانے سےبھی گریز نہیں کیا۔ تحریک طالبان میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور اندرونی انتشار نہایت خوش آئند پیش رفت اور ملک وقوم کے مفاد میں ہے۔ اِس تنظیم کے تمام کمانڈر ہی اقتدار پسند اور پیسے کے لالچی ہیں۔ جن کی غیر اسلامی اور مفاد پرست کاروائیوں کی بدولت تحریک طالبان آہستہ آہستہ مایوسی ،تقسیم اور انتشار کا شکار ہو گئی مزید یہ کہ طالبان کمانڈرز کو اپنے کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہےکیونکہ اِن کمانڈروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنگی کاروائیوں کے بجائے عیش و عشرت اور دیگر غیراسلامی سر گرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ پھر حکومت نے جب امن مذاکرات کی پیشکش کی تو تب بھی یہ گروہ مختلف دھڑوں میں بٹ گیا۔کچھ کا خیال تھا کہ امن مذاکرات کرنے چاہئیں جبکہ کچھ اِن مذاکرات کے سخت خلاف تھے اِن کے خلاف پاک فوج کی جانب سے شروع کیے جانےوالاآپریشن ضربِ عضب ایک آخری چوٹ ثابت ہوا۔ اور اب کامیاب عسکری کاروائی،دہشت گروہ کے آپسی اختلافات اور قبائلی عوام کی ان سے بڑھتی ہوئی نفرت سے اس گروہ کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ خیبر ایجنسی میں عسکری کاروائی خیبر ‘ون’ نہایت سبکدستی سے جاری ہے۔ مزید یہ کہ پاک فوج کی انتھک کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت تحریک طالبان اب ایک منظم تنظیم نہیں رہی قبائلی عوام کے مذہبی لگاؤکو جس طرح ان ظالموں نے زنگ آلود کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔وہاں کی معصوم اور امن پسند عوام کو ان ظالموں نے اسلام کے نام پر جھوٹے پراپیگنڈے کے زیرِاثر رکھا اور انہی کی حمایت کے بل بوتے پر وہ جہاد کی آڑ میں پاک وطن کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے۔

         دہشت گردی کی جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان کی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں نے دیں ہیں ۔یہ ان کی کئی سالوں کی محنت کا ثمر ہے کہ یہ تنظیم کمزور پڑگئی ہے۔انشااللہ اِس ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائےگا اور ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ان تمام حالات و واقعات سے بہت مثبت اثرات مرتب ہونگے اور انشااللہ ایک وقت آئےگا جب تحریکِ طالبان جیسے دہشت گرد گروہ بالکل نیست و نابود ہو جائیں گے۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top