تحریک طالبان کے خلاف صوفی محمد کا بیان ۔۔۔کالعدم تحریک کی حقیقت عیاں

Sufi Muhammad

تحریک طالبان کے خلاف صوفی محمد کا بیان ۔۔۔کالعدم تحریک کی حقیقت عیاں

ایس اکبر

کالعدم تحریک طالبان نفاذِ شریعت محمدی کے اسیر امیر صوفی محمد نے حال ہی میں اپنا شرعی وصیت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کا 2006 سے کالعدم تحریک طالبان کےسر غنہ فضل اللہ سے مکمل قطع تعلق ہے اور یہ بائیکاٹ قیامت تک جاری رہے گاکیو نکہ اس تحریک کی بدولت اسلام کو نقصان پہنچا ہے۔صوفی محمد کے مطابق تحریک طالبان کا سرغنہ اور کارندے کسی طور پر مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں اور نہ ہی احادیث کی روشنی میں مومن کہلانے کے حقدار ہیں۔ صوفی محمد کو جولائی2009 میں مالاکنڈ ڈویژن میں ہونے والی عسکری کاروائی میں گرفتار کیاگیا تھا ۔سوات میں صوفی محمد کی تحریک ِنفاذِ شریعت محمدی نے سوات کے علاقے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے بہت سی غیر اسلامی چیزوں کو جائز قرار دیا ہوا تھا۔ اس نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ایک دہشت گرد کالعدم تنظیم کی جانب سے دوسری کالعدم تنظیم کا بائیکاٹ اور اس کو اسلام سے خارج قرار دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک طالبا ن غیر اسلامی اور   غیر شرعی کاروائیوں پر عمل پیرا ہے۔تحریک طالبان کے خلاف صوفی محمد کی یہ وصیت دسمبر 2014 میں جاری ہوئی تھی جب تحریک طالبان نے ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے پشاور میں آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کو شہید کردیاتھا۔اس حملے کی وجہ سے تحریک طالبان کو افغان طالبان کی جانب سے بھی سرزنش کیا گیا تھا کہ وہ انسانیت سوز کاروائیوں پر عمل پیرا ہے۔تحریک طالبان نے قبائلی لوگوں کے مذہبی لگاؤ کا استحصال کرتے ہوئے اپنی راہیں ہموار کیں۔ان کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ اپنے آپ کو مذہبی تنظیم کے طور پر منظرِعام پر لائیں گے تب ہی لوگ ان کی حمایت میں اس جماعت میں شمولیت اختیار کریں گے ۔مذہب اسلام کو ان ظالموں نے کمال ہوشیاری سے اپنے ناپاک عزائم کے لیے استعمال کیا۔اس تنظیم نے ہمیشہ یہ پرچار کیا کہ وہ اسلام کے    سچے پیروکار ہیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔خودکش حملے ،بم دھماکوں کے ذریعے جانی ومالی نقصان کرنا،بچوں کو حصولِ تعلیم پر پابندی ،بچوں کے سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑانا، سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں، عورتوں اور بچوں کا استحصال وہ تما م کاروائیاں جنہیں یہ دہشت گرد عین اسلام کے مطابق کہتے ہیں حالانکہ یہ نہ تو جہاد کے ضمرے میں آتی ہیں اور نہ ہی اسلام کسی طور پر ان کی اجازت دیتا ہے۔ تمام اہلِ مفکرین علماء کرام ، اسلامی سکالرز اور مفتی اعظم ان دہشت گردوں کو اسلام سے خارج قرار دے چکے ہیں بلکہ انھیں خوارجین کے نام سے جاتاہے۔ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں اور خودکش حملہ کرنے والے حرام موت مرتے ہیں۔ یہ دہشت گردخودکش حملے کر کے کئی معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور انسانیت کی تذلیل کر رہے ہیں کیونکہ خودکش حملے غیر اسلامی ہیں۔ایک اور بہت بڑی غیر اسلامی سرگرمی مسجدوں پر حملے ہیں۔ مسجدوں پر حملے اور بے گناہ معصوم انسانوں کو شہید کرنا اسلام کی روح سے گناہ کبیرہ ہے اور ان کاروائیوں پر عمل پیرا لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔مزید برآں انتہاپسند مزارات کی بے حرمتی کرنے اور انہیں شرک کے اڈے قرار دے کر مسمار کرنے میں مصروف ہیں۔ اپنے انتہا پسندانہ نظریات کے باعث سرکاری اسکولوں کو غیر اسلامی تعلیم کے مراکز قرار دے کرانہیں گرانے اور اساتذہ کو قتل کرنے میں لگے ہیں۔ جس سے سینکڑوں طالب علم اپنے بنیادی حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ معصوم طالبعلموں پر قاتلانہ حملے بھی ان دہشت گردوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔سرکاری عمارات اور پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے نتیجے میں ہزارہا سرکاری اہلکار اور بے گنا ہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان تمام کاروائیوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دہشت گردوں کی تمام کاروائیاں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ یہ ظالم اپنےذاتی مقاصد اور چند روپوں کی خاطر اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کے قول وفعل میں واضح تضاد ہے جو اپنے آپ کو اسلامی احکامات ماننے والے سچے مسلمان گردانتے ہیں لیکن ان کاہر عمل اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جس کی روح سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ وہ مسلمان تو دور کی بات انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہیں۔ ان کی انسانیت سوز کاروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں اور پیسے کے لالچ میں اس ملک کو غیر مستحکم کرنے میں کوشاں ہیں۔

ان دہشت گردوں کے خلاف کامیاب عسکری کاروائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ان میں موجود مختلف دھڑے بازی اور بنیادی نظریاتی اختلافات اس با ت کا واضح ثبوت ہیں کہ تحریک طالبان آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہورہی ہے ۔مختلف تنظیموں کی جانب سے تحریک طالبان کو غیر اسلامی اور انسانیت سوز تنظیم قرار دینا ایک خوش آئند پیش رفت ہےاور وہ وقت دور نہیں کہ تحریک طالبان خود ہی ایک ماضی کا حصہ بن جائے گی اور اس ملک کو پھر سے دہشت گردی سے پاک ماحول نصیب ہوگا۔

Leave a Comment

© 2012 - All Rights are reserved by zameer36.

Scroll to top