پاسبانِ وطن
اے پیکرانِ عزم و وفا صدق و صفا یہ جُراتِ نایاب یہ ایثار متاعِ بیش بہا تمہارے ہی لہو سے ارضِ وطن گلزار ہے ہے اِن قربانیوں کا ثمر وطن میں جو کچھ بہار ہے تپتے صحرا، طوفانی دریا یخ بستہ ہوائیں تمہارے حوصلوں کو شکست نہ کبھی دے پائیں بن کے پتوار ساحل کی راہ دکھاتے ہو ہر کٹھن موڑ پر اُمیّد کے چراغ جلاتے ہو قوم کی لاج ہو تم جاں سے گذرنے والو مادرِ وطن کے جگر گوشو آزادی کے رکھوالو دئیے تمہاری وفاؤں کے نہ بجھنے دیں ...
Read more ›